ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 73

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۳ جلد ششم جو طریق ایک راست باز کی شناخت کے ہو سکتے ہیں وہ سب پیش کئے جاتے ہیں لیکن ایک بھی نہیں مانتے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک مرتبہ بھاگتے جاتے تھے کسی نے پوچھا کہ کیوں بھاگتے جاتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ جاہلوں سے بھاگتا ہوں۔ اس نے کہا ان پر وہ اسم اعظم ہے کیوں نہیں پھونکتے انہوں نے کہا کہ وہ اسم اعظم بھی ان پر اثر نہیں کرتا۔ حقیقت میں جہالت بھی ایک خطر ناک موت ہے مگر یہاں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسا جہل ہے قرآن پڑھتے ہیں، تفسیریں کرتے ہیں ، حدیث کی سند رکھتے ہیں مگر جب ہم پیش کرتے ہیں تو انکار کر جاتے ہیں یہ نہ خود مانتے ہیں اور نہ اوروں کو ماننے دیتے ہیں۔ یہ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ انسان کی ہستی کی غرض وغایت کو بالکل بھلا دیا گیا ہے خود خدا انسانی خلقت کی غرض تو یہ بتاتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (اللریت: ۵۷) مگر آج عبودیت سے نکل کر نادان انسان خود خدا بننا چاہتا ہے اور وہ صدق و وفا، راستی اور تقویٰ جس کو خدا چاہتا ہے مفقود ہے بازار میں کھڑے ہو کر اگر نظر کی جاوے تو صدہا آدمی ادھر سے آتے اُدھر چلے جاتے ہیں لیکن ان کی غرض اور مقصد محض دنیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی خاطر امور دنیا کی بجا آوری خدا تعالی اسے توقع نہیں کرتا کہ انسان دنیا میں کام نہ کرے۔ سے مگر بات یہ ہے کہ دنیا کے لئے نہ کرے بلکہ دین کے لیے کرے تو وہ موجب برکات ہو جاتا ہے مثلاً خدا تعالیٰ خود دو ل البدر میں ہے۔ مثنوی میں مولانا روم نے ایک قصہ لکھا ہے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) البدر سے ۔ اس نے کہا جس اسم اعظم کے ذریعے سے معجزات دکھاتے ہو وہی ان پر بھی پڑھ کر پھونک دو کہا کہ کئی مرتبہ پھونک چکا ہوں مگر ان پر اس کا بھی اثر نہیں ہے۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) سے البدر سے ۔ ہمارا یہ منشا ہر گز نہیں ہے کہ تجارت وغیرہ ذرائع معاش کو ترک کر دیا جاوے اور نہ ہم ان باتوں سے کسی کو منع کرتے ہیں ۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۴ء صفحه (۳) 66