ملفوظات (جلد 6) — Page 74
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۴ جلد ششم فرماتا ہے کہ بیویوں سے نیک سلوک کرو عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:۲۰) لیکن اگر انسان محض اپنی ذاتی اور نفسانی اغراض کی بنا پر وہ سلوک کرتا ہے تو فضول ہے اور وہی سلوک اگر اس حکم الہی کے واسطے ہے تو موجب برکات ۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لیے کرتے ہیں محبت دنیا ان سے کراتی ہے خدا کے واسطے نہیں کرتے اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیت سے کرے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ( الفرقان : (۷۵) پر نظر کر کے کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلائے کلمہ الاسلام کا ذریعہ ہو جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولاد دے دے مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے یا اور ملک ہے وہ اس کا وارث ہو اور کوئی شریک اس کو نہ لے جائے مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کمبخت جب تو مر گیا تو تیرے لیے دوست دشمن اپنے بیگانے سب برابر ہیں۔ میں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہو جائے جو اس جائداد کی وارث ہو ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شریک لے جاوے اولاد ہو جائے خواہ وہ بدمعاش ہی ہو یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے۔ برخلاف اس کے مومن اگر مکان بناتا ہے تو اس میں بھی اس کی نیت دین ہی کی ہوتی ہے لباس، خوراک ، اس کا پھر نا غرض ہر کام دین ہی کے واسطے ہوتا ہے ۔ وہ خوراک کھاتا ہے مگر موٹا ہونے کے واسطے نہیں بلکہ اس طرح پر جیسے یکہ بان کچھ دور جا کر اپنے ٹو کو نہاری اور خوراک دیتے ہیں تا کہ وہ اگلی منزل چلنے کے واسطے طیار ہو جائے اور دم نہ نکل جائے مومن کی غرض بھی خوراک سے یہی ہوتی ہے کیونکہ نفس کا بھی تو ایک حق ہوتا ہے اور اہل و عیال کا بھی اور پھر خدا تعالیٰ کا حق الگ ہے اگر نفس کے حق کی رعایت نہ ہو تو پھر وہ مر جائے گا اور یہ جوابدہ ہے۔ پس یا د رکھو کہ مومن کی غرض ہر آسائش ، ہر قول و فعل ، حرکت و سکون سے گو بظا ہر نکتہ چینی ہی کا موقع ہو مگر در اصل عبادت ہوتی ہے۔ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ جاہل اعتراض سمجھتا ہے مگر خدا کے نزدیک عبادت ہوتی ہے لے لیکن اگر اس میں اخلاص کی نیت نہ ہو تو نماز بھی لعنت کا طوق ل البدر سے ۔ اور اس کے ان کاموں کا ثواب اسے ویسا ہی ملتا ہے جیسے نماز کا ثواب ۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۴ء صفحه (۳)