ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 72

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۲ چھوڑ دے۔ اس غلطی کو جس نے ظاہر کیا ۔ جھٹ پٹ اسے کافر اور دجال کا خطاب مل گیا۔ حالانکہ کے صادق اور راست باز کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جہاں اسے کسی اپنی غلطی کا پتا ملا وہ اسے وہیں چھوڑ دیتا ہے اسے ضد اور اصرار اپنی غلطی پر نہیں ہوتا۔ مختلف فرقہ بندیاں باہمی تحقیر، قرآن اور اسلام سے بے خبری صاف طور پر ان کی حالت کو بتا رہی ہے۔ جو باتیں صرف دنیا تک ہیں ان کی سزا اور اثر بھی دنیا ہی تک محدود ہے مگر جو امور عاقبت کے متعلق ہیں ان میں اگر سستی اور بے پروائی کی جاوے تو اس کا نتیجہ جہنم ہوتا ہے۔ میں بعض وقت ان لوگوں کی حالت دیکھ کر سخت حیران ہو جاتا ہوں اور خیال گذرتا ہے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالی پر یقین نہیں ہے ورنہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ آیات و نشانات دیکھتے ہیں۔ ہم دلائل پیش کرتے ہیں مگر ان پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا مومن کے سامنے اگر اللہ تعالیٰ کا کلام پیش کیا جاوے وہ فوراً ڈر جاتا ہے اور جرات سے اس کی تکذیب پر لب کشائی نہیں کرتا مگر ان کی عجب حالت ہے کہ ہم اپنی تائید میں سب سے اول تو یہ پیش کرتے ہیں کہ خدا نے مجھے مامور کیا ہے اور پھر اپنی تائید دعوی میں ہم آیات قرآنیہ پیش کرتے ہیں لیکن یہ دونوں سے انکار کرتے ہیں اور پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت پیش کرتے ہیں اس سے ہی تر ساں ہو جاتے مگر اس کا بھی کچھ اثر نہیں ہوتا خدا تعالیٰ کے نشان دیکھتے ہیں مگر تکذیب کرتے ہیں عقلی دلائل کا اثر نہیں غرض لے البدر میں ہے۔ حالانکہ فاسق اور متقی میں یہی فرق ہوا کرتا ہے کہ متقی کو جب غلطی کا پتا لگ جاوے تو وہ اسے فوراً ترک کر دیتا ہے اور فاسق نہیں کرتا ہر ایک شخص یا قوم کی غلطیاں ایک حد تک معلوم ہو جاتی ہیں مگر ان کی غلطیوں اور خباثتوں کا کوئی انتہا نظر نہیں آتا ہے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) سل البدر سے ۔ دعوئی تو قرآن، حدیث اور خدا پر ایمان کا ہے مگر ان کے آگے جب یہ پیش کیا جاوے اور کہا جاوے کہ غلطی چھوڑ دو تو ایک بات کا بھی اثر نہیں ہوتا بھلا بتلاؤ کہ ایک مومن کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اس کے آگے قرآن شریف پیش کیا جاوے، احادیث پیش کی جاویں، نشانات پیش کئے جاویں علاوہ اس کے عقل بھی کام کی شے ہے اس سے بھی نیک و بد کی تمیز ہوتی ہے اس سے بھی سمجھا یا جاوے مگر ان کو کسی سے فائدہ نہیں پہنچتا۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۳)