ملفوظات (جلد 6) — Page 71
ملفوظات حضرت مسیح موعود ا مجھے تعجب آتا ہے کہ ان کم بختوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو نشانہ بنایا ہے ایک عاجز ابن آدم کو خدا بنایا جاتا ہے اور بد عملی کو بے حیائی اور جرات سے کیا جاتا ہے۔ ام الخبائث (شراب) پانی کی طرح پی جاتی ہے مگر اس پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے پاک و مطہر انسان کی پاک ذات پر حملے کرنے کے لیے زبان کشائی کرتے ہیں۔ ان کے ملکوں میں جا کر اگر کوئی عفت اور پارسائی کا نمونہ دیکھنا چاہے تو اسے معلوم ہوگا کہ کفارہ کے کیا کیا برکات ان پر نازل ہوئے ہیں۔ جو کے بڑے مہذب کہلاتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ وہ ہمہ تن دنیا ہی کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور ایسے سرنگوں دنیا کے سامنے ہوئے ہیں کہ انہوں نے دنیا ہی کو خدا سمجھ لیا ہے۔ ان کے نزدیک ان شاء اللہ کہنا بھی ہنسی کی بات ہے اور ان کے اثر سے ہزاروں لاکھوں انسان تباہ ہو رہے ہیں اور توجہ الی اللہ اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنا خطرناک غلطی اور حماقت ہے۔ باوجود یکہ یہ حالت ان لوگوں کی ہو چکی ہے لیکن اسلام کے استیصال کے لیے وہ لاکھوں کروڑوں روپیہ پانی کی طرح بہارہے ہیں مگر یا درکھو کہ اسلام ان کے مٹانے سے مٹ نہیں سکتا۔ اس کا محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے۔ علماء اسلام کی حالت اب اسلام کی اندرونی حالت دیکھو فیض کا چشمہ علما سے تھے مگران کی حالت ایسی قابلِ رحم ہو گئی ہے کہ اس کے بیان کرنے سے بھی شرم آجاتی ہے۔ جس غلطی پر کوئی اڑ گیا ہے یا جو کچھ اس کے منہ سے نکل گیا ہے ممکن نہیں کہ وہ اسے ل البدر سے۔ ”نصاری کے اعتقاد کا تو یہ حال ہے۔ اب عملی حالت کی طرف نظر کرو کہ کنجریوں ۔ کا تو یہ نظر سے بدتر ہیں عفت وں وغیرہ کا نام ونشان نہیں شراب پانی کی طرح پی جاتی ہے کھلی زنا کاری کتوں اور کتیوں کی طرح ہورہی ہے اگر کفارے کے اثر کا پورا نقشہ دیکھنا ہو تو یورپ کے ملکوں کی سیر کی جاوے۔“ (البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) البدر میں یوں لکھا ہے ۔ پھر ان کے علاوہ ایک اور فرقہ ہے جو اپنے آپ کو مہذب کہتا ہے ان لوگوں نے دنیا کو خدا بنا رکھا ہے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) سے البدر میں ہے۔ ” فیوض اور برکات کا سر چشمہ علماء ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے عام مخلوق ہدایت ؟ پاتی ہے ۔“ 66 البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) ۱۸