ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vi of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page vi

وہ مصفی پانی ہے جس کے ذریعے سے اس باغ کا قیام اور نشو ونما ہوتا ہے“ ( ملفوظات جلد ششم صفحه ۸۶) اور قرآن مجید و حدیث کا مرتبہ جس کے متعلق اہل قرآن اور اہل حدیث میں سخت اختلاف پایا جاتا ہے یہ بیان فرماتے ہیں کہ ہمارا مذہب یہ ہے۔ دو سب سے مقدم قرآن ہے اس کے بعد سنت اس کے بعد حدیث ۔“ 66 ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشر طیکہ وہ قرآن کے معارض نہ ہو تو اس پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔۔۔۔۔ کوئی حدیث ہی باوجود تا ویلات کے بھی قرآن شریف سے مطابقت نہ کھاوے تو پھر قرآن کو مقدم رکھ کر اسے ترک کر دیا جاوے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۲۶۶) دعا کی طرف بار بار توجہ دلاتے ہیں اور فرماتے ہیں :۔ حصول فضل کا اقرب طریق دعا ہے۔ اور دعا کامل کے لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رفت ہو۔ اضطراب اور گدازش ہو۔ جو دعا عاجزی، اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خدائے تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اور پھر اس کا علاج یہی ہے کہ دعا کرتا رہے، خواہ کیسی ہی بے دلی اور بے ذوقی ہو لیکن یہ سیر نہ ہو۔ تکلف اور تصنع سے کرتا ہی رہے۔ اصلی اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ دعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہو جاتا ہے وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔ مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پیزی ہی میں برکت ہے کیونکہ آخر گو ہر مقصود اسی سے نکل آتا ہے اور ایک دن آ جاتا ہے کہ جب اس کا وہ دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور رقت جو دعا کے لوازمات ہیں پیدا ہو جاتے ہیں ۔ جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہو لیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دعا کرتا ہے کہ الہی دل تیرے ہی قبضہ و تصرف میں ہے تو اس کو صاف کر دے اور عین قبض