ملفوظات (جلد 6) — Page v
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات طیبہ کی یہ چھٹی جلد ہے جو یکم جون ۱۹۰۳ء سے لے کر آخر اپریل ۱۹۰۴ء کے ملفوظات طیبہ پر مشتمل ہے ۔ جلد پنجم اور اس جلد کی ترتیب و تدوین میری اصولی ہدایات کے مطابق مکرم مولانا محمد اسماعیل صاحب دیا لگڑھی کی مساعی کی رہین منت ہیں ۔ جَزَاهُ اللهُ خَيْرًا سے اس روحانی مائدہ کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور ومرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمارے لئے تیار کیا ہم جتنا بھی اس کا شکر یہ ادا کریں وہ کم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جو انبیاء آئے ان کی تعلیم میں بگاڑ اور ان کی قوموں کے جلدی گمراہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے زمانہ میں پریس وغیرہ نہ تھا کہ ان کی تعلیمیں چھپ کر مخالف و موافق کے پاس پہنچ کر یقینی طور پر پر محفوظ محفوظ ہو جاتیں۔ ابدی حفاظت کا وعدہ صرف قرآن مجید کے لئے تھا اور اس کی برکت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متبعین کے ذریعہ ایک حد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال اور آپؐ کے اقوال اور آپ کی سیرت بھی محفوظ ہو گئے۔ آپؐ کے بعد یہ فخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بخشا گیا کہ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے پریس کے ذریعہ آپ کی تحریرات اور آپ کے ملفوظات کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا جنہیں اب دنیا کی کوئی طاقت نابود نہیں کر سکتی ۔ پس یہ نہ صرف ہم پر بلکہ تمام دنیا پر اللہ تعالیٰ کا ایک خاص احسان ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم فعلاً اس احسانِ عظیم کی قدر کریں اور جہاں تک ممکن ہو آپ کی تحریرات اور ملفوظات طیبہ کی دنیا میں اشاعت کریں۔ ملفوظات کی اس جلد میں نہایت اہم مسائل کا تذکرہ پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقدس مسیح نے اپنی جماعت کو مختلف پیرایوں میں وہ باتیں ذہن نشین کرانے کی کوشش فرمائی ہے جن پر اُن کی کامیابی کا مدار ہے۔ حضرت اقدس علیہ السلام سلسلہ کے عقائد اور اعمال صالحہ میں تعلق کا اس رنگ میں اظہار فرماتے ہیں :۔ ” عقائد کی مثال ایک باغ کی ہے جس کے بہت عمدہ پھل اور پھول ہوں اور اعمالِ صالحہ