ملفوظات (جلد 6) — Page 51
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۱ جلد نے میرا نام بھی نوح رکھا ہے اور وہی الہام جو کشتی کا نوح کو ہوا تھا یہاں بھی ہوا ہے اسی طرح پر اب خدا تعالیٰ نے فیصلہ کرنا چاہا ہے اور حقیقت میں اگر ایسا نہ ہوتا تو ساری دنیا دہر یہ ہو جاتی اقبال اور تعالیٰ نے فیص کثرت نے دنیا کو اندھا کر دیا ہے۔ عیسائی مذہب کا خاتمہ النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُو کھمْ جو کہا گیا ہے بالکل سچ ہے انسان جب سلطنت اور حکومت کو دیکھتا ہے تو اس کے خوش کرنے کے لیے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کے واسطے وہی رنگ اختیار کرنے لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت عیسائیوں کی کثرت ، ان کی قومی ثروت اور اقبال نے لوگوں کو خیرہ کر دیا ہے اور ان وجوہات سے بہت سے لوگوں کو ادھر توجہ ہوگئی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس مذہب کا خاتمہ ہو جاوے اور اس کے لیے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ عیسائی خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ ان کے مذہب کو ہلاک کر دے گا۔ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پادری پادریوں کی نظر میں ہماری جماعت جس قدر ہماری جماعت کو بر سمجھے ہیں اور اس بُرا سے دشمنی کرتے ہیں وہ دوسرے مسلمانوں کو اس قدر برا نہیں سمجھتے ۔ جہاں کہیں ہمارا ذکر ہو گالیاں ۔ دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ان کی فطرت خود تسلیم کرتی ہے کہ یہ سلسلہ ان کو ہلاک کر دینے والا ہے جیسے بلی کا منہ جب چوہاد یکھتا ہے حالانکہ اس نے پہلے کبھی اس پر حملہ نہ بھی کیا ہونو را ہی سمجھ جاتا ہے کہ یہ میری دشمن ہے۔ بکری نے کبھی شیر کو دیکھا بھی نہ ہو لیکن جونہی اسے نظر آجاوے وہ گھبرا کر کھانا پینا چھوڑ دے گی اسی طرح پر عیسائی ہمارے سلسلہ کے کسی آدمی کو دیکھ کر ہی اس سے بیزار ہو جاتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ ان سے کوئی امیدان کو نہیں ہے۔ ان کی فطرت ہی ان کو بتا دیتی ہے۔ فطر کے معنے پھاڑنے کے ہیں اور فطرت سے یہ مراد ہے کہ انسان خاص طور پر پھاڑا گیا ہے۔ ل البدر میں ہے۔ ان لوگوں نے تاڑ لیا ہے کہ عیسائی مذہب کے دشمن اگر ہیں تو ہم ہی ہیں اور کوئی فرقہ مسلمانوں البدر جلد ۳ نمبر۷ مورخه ۱۶ فروری ۱۹۰۴ ء صفحه (۵) میں سے نہیں ہے۔“ 66