ملفوظات (جلد 6) — Page 52
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲ جب آسمان سے قوت آتی ہے تو نیک قو تیں پھٹنی شروع کرد ۔ کر دیتی ہیں۔ فرمایا۔ براہینِ احمدیہ میں جو یہ الہام ہے بڑا ہی پر زور اور مبشر ہے وَمَا كَانَ اللهُ لِيَتُرُكَكَ حَتَّى يَمِينَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ یعنی خدا ایسا نہیں ہے جو تجھے چھوڑ دے جب تک پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ دکھا دے۔ یہ الہام بڑا ہی مبشر ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ عظیم الشان فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ جب سے عیسائیوں کا کسر صلیب کے لئے دعا کی اہمیت اگر چہ یہ چی بات ہے کہ جب قدم آیا ہے مسلمانوں نے اپنی طرف سے کمی نہیں کی اور کسی نہ کسی حد تک ان کا مقابلہ کرتے رہے ہیں اور کتابیں اور رسالے لکھتے ہی رہے ہیں لیکن باوجود اس کے بھی ان کی جماعت بڑھتی ہی گئی ہے یہاں تک کہ اب شاید تیس لاکھ کے قریب مرتد ہو چکے ہیں اس لیے میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ کسر صلیب جانکاہ دعاؤں پر موقوف ہے۔ دعا میں ایسی قوت ہے کہ جیسے آسمان صاف ہوا اور لوگ تضرع اور انتہال کے ساتھ دعا کریں تو آسمان پر بدلیاں سی نمودار ہو جاتی ہیں اور بارش ہونے لگتی ہے ۔ اسی طرح پر میں خوب جانتا ہوں کہ دعا اس باطل کو ہلاک کر دے گی اور لوگوں کو تو کوئی غرض نہیں ہے کہ وہ دین کے لیے دعا کریں مگر میرے نزدیک بڑا چارہ دعا ہی ہے اور یہ بڑا خطرناک جنگ ہے جس میں جان جانے کا بھی خطرہ ہے ۔ وَنِعْمَ مَا قِيلَ - ے اندریں وقت مصیبت چارہ ہائے بیکساں جز دعائے با مداد و گریه اسحار نیست پھر ان دعاؤں کے لیے گوشہ نشینی کی بڑی ضرورت ہے۔ کئی دفعہ یہ بھی خیال آیا ہے کہ باغ میں کوئی الگ مکان دعاؤں کے واسطے بنالیں۔ ل البدر میں ہے۔ ”ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگوں کو اس قسم کی دعا سے مطلب ہی کیا ہے کہ اس فتنہ اور بطلان کی استیصال کے لیے دعائیں کریں ان کی تو گل دعا ئیں اپنے اپنے نفس کی ضروریات تک محدود ہیں حالانکہ اس زمانہ البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۶ فروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۵) میں دعا ایک بڑا جنگ ہے ۔“ 66