ملفوظات (جلد 6) — Page 50
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰ جلد ششم دعا سے آخری فتح ہوگی اور انبیاء علیہم السلام کا یہی طرز رہا ہے کہ جب دلائل اور حج کام نہیں دیتے تو ان کا آخری حربہ دعا ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا وَ اسْتَفْتَحُوا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ( ابراهيم : ١٦ ) یعنی جب ایسا وقت آجاتا ہے کہ انبیاء ورسل کی بات لوگ نہیں مانتے تو پھر دعا کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے مخالف متکبر و سرکش آخر نامراد اور نا کام ہو جاتے ہیں ۔ ایسا ہی مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) کے متعلق جو یہ آیا ہے وَ نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْتُهُمُ جمعا (الكهف : ۱۰۰) اس سے بھی مسیح موعود کی دعاؤں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے نزول از آسمان کے یہی معنے ہیں کہ جب کوئی امر آسمان سے پیدا ہوتا ہے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسے رڈ نہیں کر سکتا آخری زمانہ میں شیطان کی ذریت بہت جمع ہو جائے گی کیونکہ وہ شیطان کا آخری جنگ ہے مگر مسیح موعود کی دعائیں اس کو ہلاک کر دیں گی ۔ نوح کے زمانہ سے مناسبت اس طرح نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا جب حضرت نوح تبلیغ کرتے کرتے تھک گئے تو آخر انہوں نے دعا کی تو نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طوفان آیا جس نے شریروں کو ہلاک کر دیا اور اس طرح پر فیصلہ ہو گیا آخر ان کی کشتی ایک پہاڑ پر جا ٹھہری جس کو اب اراراٹ کہتے ہیں اراراٹ کی اصل یہ ہے ارارات یعنی میں پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتا ہوں کے انہوں نے ایک پہاڑ کا سرا دیکھ کر کہا تھا اور اب اسی نام سے یہ مشہور ہو گیا اور بگڑ کر اراراٹ بن گیا یہ زمانہ بھی نوح علیہ السلام کے زمانہ سے مشاء ، زمانہ سے مشابہ ہے خدا تعالیٰ (بقیہ حاشیہ ) اور دیکھا کہ ابھی فتنہ برقرار ہے تو پھر انہوں نے دعا کی طرف توجہ کی تا کہ توجہ باطنی سے فتنہ کو پاش پاش کیا جاوے جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَ اسْتَفْتَحُوا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ( ابراهيم : ١٦) یعنی جب رسولوں نے دیکھا کہ وعظ اور پند سے کچھ فائدہ نہ ہوا تو انہوں نے ہر ایک بات سے کنارہ کش ہو کر خدا کی طرف توجہ کی اور اس سے فیصلہ چاہا تو پھر فیصلہ ہو گیا۔ البدر جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۶ رفروری ۱۹۰۴ ء صفحه (۵) دو ل البدر میں ہے۔ رات عبرانی زبان میں پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں اور آدمی بمعنے میں نے دیکھ لیا۔ نوٹ نے جب نی زبان میں پہاڑ کی چوٹی کوکہتے ہیں اور آڑی بھنے میں نے دیکھ لیا۔ نوں ۔ خشکی کی تلاش میں چاروں طرف نظر ماری اور پانی ہی پانی نظر آیا تو چونکہ کچھ پانی اتر چلا تھا اس لیے جودی پہاڑ کی چوٹی ان کو نظر آئی اور اسی وجہ سے اس کا نام ارارات پڑ گیا۔ (البدر جلد ۳ نمبر۷ مورخہ ۱۶ رفروری ۱۹۰۴ صفحه ۵)