ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 366

ملفوظات حضرت مسیح موعود از صفحه نمبر ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۷ ۲۲۰ ۲۳۶ الد ۔ ۲۴۲ ۲۵۱ ۲۵۴ ۲۵۶ ۲۵۶ ۲۷۸ ۲۸۱ ۳۶۶ ترجمه فارسی کیونکہ عشق اور مشک کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ اگروز پر خدا سے اس طرح ڈرتا جیسے بادشاہ سے ڈرتا ہے تو فرشتہ بن جاتا۔ یہ دنیا کا جنگل درندوں اور پھندوں سے خالی نہیں بارگاہ الہی کی تنہائی کے سوا کہیں امن نہیں ۔ ہاتھ کام میں اور دل یار میں لگا ہونا چاہیے۔ ہم اس عالی بارگاہ تک نہیں پہنچ سکتے سوائے اس کے کہ تو خود مہربانی سے چند قدم آگے بڑھ آئے ۔ خدا جانتے ہوئے بھی پردہ پوشی کرتا ہے ہمسایہ نہیں جانتا اور غل مچاتا ہے۔ سینکڑوں حسین میرے گریبان کے اندر ہے۔ میں تو بن گیا تو میں بن گیا میں تن بنا تو جان بن گیا۔ تا بعد میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں کوئی اور ہوں اور تو کوئی اور ہے۔ میں بار بار نباتات اور ہر یاؤں کی شکل میں اُگا ہوں میں سات سوستر یعنی بے شمار سانچوں سے گزرا ہوں ۔ ہر شخص کو کسی نہ کسی کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ کیا تو نے زمینی کاموں کو درست کر لیا ہے، کہ آسمانی کاموں کی طرف بھی متوجہ ہو گیا ہے۔ جو زیادہ واقف ہو وہی زیادہ ڈرتا ہے۔ شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے۔