ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 314

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۴ جلد طاعون کی خبر آج سے نہیں ۲۳ برس سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہوئی ہے اور اس لیے یہ معمولی نظر سے دیکھنے کے قابل نہیں ہے بلکہ یہ عظیم الشان قہری نشان ہے۔ غرض طاعون نے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا بلکہ فائدہ ہی دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی ضرور کہتا ہوں کہ ایمان کے طبقات ہیں جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں ۔ اس لیے ان طبقات کے لحاظ سے جو شخص کامل الایمان ہے وہ نافع الناس وجود ہے۔ تبلیغ دین کرنے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر ہے وہ طاعون سے ضرور بچایا جائے گا۔ بعض آدمی جن کی ایمانی حالت کمزور ہوتی ہے اور وہ اس درجہ پر نہ پہنچے ہوئے ہوں جہاں اللہ تعالیٰ کسی کو مومن کہتا ہے اور ان کی ضرورت بھی کم ہو پھر ان میں سے کوئی اگر فوت ہو جاوے تو اس میں کیا حرج ہے۔ میں یہ خوب جانتا ہوں کہ ایمان کے درجات ہیں اور ہر درجہ پر برکت ملتی ہے لیکن ان میں باہم فرق ضرور ہوتا ہے ۔ دیکھواس وقت آفتاب کی روشنی ہے۔ آنکھیں کھلی ہیں ہر ایک چیز دور و نزدیک کی صاف اور واضح نظر آتی ہے۔ جب آفتاب کی سلطنت ختم ہو جائے گی تو رات آئے گی ۔ اس وقت عالم ہی اور ہوگا۔ اگر چہ اس وقت چاند یا ستاروں کی روشنی ہوگی مگر ان روشنیوں میں زمین آسمان کا فرق ہوگا ۔ ایسا ہی ایمان مراتب میں فرق صریح ہے۔ ایمان بھی ایک روشنی ہے جس جس درجہ پر ایمان پہنچتا ہے اسی مرتبہ کے موافق روشنی اور پھل پاتا ہے۔ جو چاہتا ہے کہ عمر زیادہ ہو اور اس قہری نشان میں ایک امتیاز پیدا کرے اس کو لازم ہے کہ وہ کامل الایمان ہو اور اپنے وجود کو قابل قدر بنادے اور اس کی یہی صورت ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچاوے اور دین کی خدمت کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) یہ خوب یا درکھو کہ عمر کھانے پینے سے لمبی نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی اصل راہ وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو صرف کھانے پینے کو ہی زندگی کی غرض وغایت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ زندگی کی یہ غرض نہیں ۔ سعدی کہتا ہے ۔ خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است تو معتقد که زیستن از بهر خوردن است جب انسان کا ایک اصول ہو جاوے کہ زیستن از بهر خوردن است اس وقت اس کی نظر خدا پر