ملفوظات (جلد 6) — Page 313
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۳ جلد شش اس کے علاوہ یہ بھی خوب غور سے سنو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں لڑائیاں ہوتی تھیں اور وہ لڑائیاں عذاب کے رنگ میں تھیں کیونکہ کافر بار بار سوال کرتے تھے کہ آپ ہمیں قہری نشان اور معجزہ دکھاؤ کہ ہم پر پتھر برسیں۔ ایسے بار بار کے سوالات پر ان کو وعدہ دیا گیا کہ میں قہری نشان دکھاؤں گا اور وعدہ دیا گیا کہ وہ نشان تلوار کے ذریعہ ظاہر ہوگا ۔ اب صاف ثابت ہے کہ وہ عذاب کافروں کے واسطے تھا مگر اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان جنگوں میں ( جو قہری نشان کی صورت میں ظاہر ہوئے تھے ) صحابہ اصحابہ بھی شہید ہوئے ۔ اب کیا کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ صحابہ جو شہید ہوئے تھے معاذ اللہ وہ تلوار ان کے لیے بھی عذاب تھی؟ ہرگز نہیں بلکہ صحابہؓ کی شہادت تو قوم کی ترقی اور فتوحات کا باعث ہوئی ۔ صحابہؓ کی قوم بڑھی اور بالمقابل مخالفوں کا نام ونشان مٹ گیا اور ستیا ناس ہو گیا۔ اب کوئی پتا دے سکتا ہے کہ ابو جہل کی اولاد کہاں ہے؟ اس کی بیخ کنی ہوگئی ۔ یہی مثال سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ رض اسی طرح پر اس میں شک نہیں کہ طاعون عذاب کی صورت میں نازل ہوا ہے اور اگر ہماری جماعت میں سے بعض آدمی طاعون سے فوت ہوئے ہیں تو اس پر شور مچانا یا اعتراض کرنا دانشمندی نہیں ہے بلکہ غور طلب یہ امر قرار دینا چاہیے کہ طاعون سے نقصان کس کا ہوا اور فائدہ کس کو پہنچا؟ میں یقیناً کہتا ہوں کہ جب طاعون شروع ہوئی ہے اس وقت میری جماعت کی تعداد بہت تھوڑی تھی مگر اس وقت دو لاکھ سے بھی یہ جماعت بڑھی ہوئی ہے اور یہ ترقی طاعون کے سبب سے ہی ہوئی ہے۔ طاعون نے میری جماعت کو بڑھایا ہے اور مخالفوں کو گھٹایا ہے۔ مجھے وعدہ دیا گیا ہے کہ طاعون تیری نه تیری ترقی کا موجب ہوگی ۔ سو اس وعدہ کے موافق یہ جماعت بڑھ رہی ہے اور دولاکھ تک بڑھی ہے، مگر مخالفوں کو تو دو ہر انقصان ہوا ہے کچھ ان میں سے قبروں میں گئے اور کچھ ہمارے پاس ئے ہیں۔ اگر ہمارا نقصان اس سے ہوتا تو یہ جماعت جو بہت ہی مختصر اور قلیل تھی بالکل تباہ ہو جاتی آئے اور آج کوئی اس کو جاننے والا بھی نہ ہوتا۔ ان واقعات کو مد نظر رکھ کر معترض کو چاہیے کہ دیکھے کیا یہ اعتراض کوئی شے ہے؟