ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 315

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۵ جلد نہیں رہتی بلکہ وہ دنیا کے کاروبار اور تجارت ہی میں منہمک ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ اور رجوع کا خیال بھی نہیں رہتا۔ اس وقت اس کی زندگی قابل قدر وجود نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَوُا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) یعنی میرا رب تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگر تم اس کی بندگی نہ کرو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ اس ملک میں ہیضہ کی خطرناک و با پڑی تھی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ یہ نظارہ دکھایا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک بڑا میدان ہے اور اس میں ایک بہت بڑی لمبی نالی ہے۔ جس پر قصابوں نے بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور چھریاں ان کی گردنوں پر رکھی ہوئی ہیں۔ وہ آسمان کی طرف منہ کر کے دیکھ رہے ہیں گویا آسمانی حکم کا انتظار کرتے ہیں۔ میں پاس ہی ٹہل رہا ہوں اتنے میں میں نے یہ آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبَوُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ یہ آیت سنتے ہی انہوں نے چھریاں پھیر دیں اور بھیڑیں تڑپنے لگیں۔ ان کو تڑپتے دیکھ کر وہ قصاب بولے کہ تم کیا ہو؟ گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔ غرض اس کے بعد ہیضہ کی وہ خطر ناک و با پڑی ۔ پس جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتا اس کا رتبہ اور قدر نجاست خور بھیٹر سے زیادہ نہیں ہوتا۔ دلائل صداقت بالآخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میری نسبت جو مخالف لوگ مخالفت کرتے ہیں اور میرا انکار کرتے ہیں اگر وہ دعائیں کرتے اور خدا تعالیٰ سے میری نسبت کشف حقائق چاہتے تو ان کی آنکھیں کھل جاتیں مگر افسوس ہے کہ انہوں نے مخالفت میں حد سے زیادہ حصہ لیا اور میرے دعاوی پر نہ غور کی اور نہ میری کتابوں کو پڑھا اور نہ میری باتوں کو تعصب سے خالی ہو کر سنا۔ وہ مجھے دجال اور مفتری تو کہتے ہیں مگر وہ اس امر پر غور نہیں کرتے کہ کیا دجال اور مفتری بھی اس قسم کی کامیابی حاصل کیا کرتے ہیں ۔ یا د رکھو کہ اگر یہ انسان کا اپنا سلسلہ ہوتا تو بھی کا تباہ ہو جاتا کیونکہ اس کے تباہ کرنے میں ہر طرف سے مخالفانہ کوشش ہو رہی ہے اور جب خدا تعالیٰ کے بھی خلاف ہوتا تو وہ بھی اس کا دشمن تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ بجائے تباہ ہونے کے ترقی کر رہا ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے انسانی کاروبار نہیں ہے۔ تم جانتے ہو کہ میرا یہ