ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 303

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۳ جلد ششم اس کا دل ایک تازہ زندگی پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث میں اس کا ذکر کیا گیا ہے ۔ احادیث اور کتب سابقہ سے یہی پتا لگتا ہے کہ جب انسان گناہ کی موت سے نکل کر تو بہ کے ذریعہ نئی زندگی پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی زندگی سے خوش ہوتا ہے۔ حقیقت میں یہ خوشی کی بات تو ہے ہی کہ انسان گناہوں کے نیچے دبا ہو اور ہلاکت اور موت ہر طرف سے اس کے قریب ہو۔ عذاب الہی اس کے کھا جانے کو تیار ہو کہ وہ یکا یک ان بدیوں اور بدکاریوں سے جو اس بعد اور ہجر کا موجب تھیں تو بہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف آجاوے وہ وقت خدا تعالیٰ کی خوشی کا ہوتا ہے اور آسمان پر ملائکہ بھی خوشی کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ تباہ اور ہلاک ہو بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ اگر اس کے بندہ سے کوئی غلطی اور کمزوری ظاہر ہوتی ہے پھر بھی وہ تو بہ کر کے امن میں داخل ہو۔ پس یا درکھو کہ وہ دن جب انسان اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہے بہت مبارک دن ہے اور سب ایام سے افضل ہے۔ کیونکہ وہ اس دن نئی زندگی پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قریب کیا جاتا ہے اور اسی لحاظ سے یہ دن ( جس میں تم میں سے بہتوں نے اقرار کیا ہے کہ میں آج اپنے تمام گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں اور آئندہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے گناہوں سے بچتا رہوں گا ) یوم تو بہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے وعید کے موافق میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر ایک شخص کے جس نے سچے دل سے تو بہ کی ہے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے اور وہ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ کے نیچے آ گیا ہے ۔ گویا کہہ سکتے ہیں کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔ مگر ہاں میں پھر کہتا ہوں کہ اس کے لیے یہ شرط ہے کہ حقیقی پاکیزگی اور سچی طہارت کی طرف قدم بڑھا یا جاوے اور یہ تو بہ نری لفظی تو بہ ہی نہ ہو بلکہ عمل کے نیچے آجاوے۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے کہ کسی کے گناہ بخش دیئے جاویں بلکہ ایک عظیم الشان امر ہے۔ دیکھو! انسانوں میں اگر کوئی کسی کا ذرا سا قصور اور خطا کرے تو بعض اوقات اس کا کینہ پشتوں تک چلا جاتا ہے وہ شخص نسلاً بعد نسل تلاش حریف میں رہتا ہے کہ موقع ملے تو بدلہ لیا جاوے لیکن اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم و کریم ہے۔ انسان کی طرح سخت دل نہیں جو ایک گناہ کے بدلے میں کئی نسلوں تک پیچھا نہیں چھوڑتا اور تباہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ رحیم کریم خدا ستر برس کے گناہوں کو ایک کلمہ سے ایک لحظہ