ملفوظات (جلد 6) — Page 302
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۲ جلد ششم بے شک اپنی اپنی جگہ مبارک اور خوشی کے دن ہیں لیکن ایک دن ان سب سے بھی بڑھ کر مبارک اور خوشی کا دن ہے مگر افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نہ تو اس دن کا انتظار کرتے ہیں اور نہ اس کی تلاش۔ ورنہ اگر اس کی برکات اور خوبیوں سے لوگوں کو اطلاع ہوتی یا وہ اس کی پروا کرتے تو حقیقت میں وہ دن ان کے لیے بڑا ہی مبارک اور خوش قسمتی کا دن ثابت ہوتا اور لوگ اسے غنیمت سمجھتے ۔ وہ دن کون سا دن ہے جو جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک دن ہے؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس دن وہ بد اعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اور اندر ہی اندر غضب الہی کے نیچے اسے لا رہا تھا دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیے اور کون سا خوشی اور عید کا دن ہوگا جو اسے ابدی جہنم اور ابدی غضب الہی سے نجات دے دے۔ تو بہ کرنے والا گنہگار جو پہلے اللہ تعالیٰ سے دور اور اس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا اور جہنم اور عذاب اس سے دور کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة: ۲۲۳) بے شک اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے۔ اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی تو بہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے۔ ور نہ نری تو بہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بدکرتوتوں سے تو بہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا عہد صلح باندھ لے اور اس کے احکام کے لیے اپنا سرخم کر دے تو کیا شک ہے کہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کے بد عملوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا بچا یا جاوے گا اور اس طرح وہ وہ چیز پالیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی ۔ تم خود قیاس کر سکتے ہو کہ ایک شخص جب کسی چیز کے حاصل کرنے سے بالکل مایوس ہو گیا ہو اور اس ناامیدی اور یاس کی حالت میں وہ اپنے مقصود کو پالے تو اسے کس قدر خوشی حاصل ہوگی ۔