ملفوظات (جلد 6) — Page 304
ملفوظات حضرت مسیح موعود له ولد جلد میں بخش دیتا ہے۔ یہ مت خیال کرو کہ وہ بخشنا ایسا ہے کہ اس کا فائدہ کچھ نہیں ۔ نہیں وہ بخشنا حقیقت میں فائدہ رساں اور نفع بخش ہے اور اس کو وہ لوگ خوب محسوس کر سکتے ہیں جنہوں نے سچے دل سے توبہ کی ہو۔ بہت سے لوگ اس امر سے غافل ہیں کہ انسان پر جو بلائیں آتی ہیں وہ نزول بلا کا فلسفہ بلا کا فلسفہ بہت ہے بلا وجہ یونہی آجاتی ہیں یا ان کے نزول کو انسان کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسا خیال بالکل غلط ہے۔ یہ خوب یا د رکھو کہ ہر بلا جو اس زندگی میں آتی ہے یا جو مر نے کے بعد آئے گی جس کا ہمیں یقین ہے۔ اس کی اصل جڑا گناہ ہی ہے کیونکہ گناہ کی حالت میں انسان اپنے آپ کو ان انوار اور فیوض سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں پرے ہٹا دیتا ہے اور اس اصل مرکز سے جو حقیقی راحت کا مرکز ہے ہٹ جاتا ہے۔ اس لیے تکلیف کا آنا اس حالت میں اس پر ضروری ہے۔ یہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ انبیاء اور راستبازوں پر بعض اوقات بلائیں آجاتی ہیں اور وہ بھی مصائب اور شدائد میں ڈالے جاتے ہیں لیکن یہ گمان کرنا کہ وہ مصائب اور بلائیں کسی گناہ کی وجہ سے آتی ہیں۔ خطرناک غلطی اور گناہ ہے۔ ان بلاؤں میں جو خدا کے راستبازوں اور پیارے بندوں پر آتی ہیں اور ان بلاؤں میں جو خدا تعالیٰ کے نافرمانوں اور خطا کاروں پر آتی ہیں زمین آسمان کا فرق ہے اس لیے کہ ان کے اسباب بھی مختلف ہیں ۔ نبیوں اور راستبازوں پر جو بلائیں آتی ہیں ان میں ان کو ایک صبر جمیل دیا جاتا ہے جس سے وہ بلا اور مصیبت ان کے لیے مدرک الحلاوت ہو جاتی ہے۔ وہ اس سے لذت اٹھاتے ہیں اور روحانی ترقیوں کے لیے ایک ذریعہ ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کے درجات کی ترقی کے لیے ایسی بلاؤں کا آنا ضروری ہے جو ترقیات کے لئے زمینہ کا کام دیتی ہیں۔ جو شخص ان بلاؤں میں نہیں پڑتا اور ان مصیبتوں کو نہیں اٹھاتا وہ کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتا ۔ دنیا کے عام نظام میں بھی تکالیف اور مشقتوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں سے ہر ایسے شخص کو جو ترقی کا خواہاں ہے گذرنا پڑتا ہے لیکن ان تکالیف اور شاقہ محنتوں میں باوجود تکالیف کے ایک لذت