ملفوظات (جلد 6) — Page 301
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع تھیں ۔ كَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء : ۱۱۴) اسی کی طرف اشارہ ہے۔ پس اگر آسمان پر جانا کوئی فضیلت ہو سکتی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کب باہر رہ سکتے تھے۔ آخر یہ لوگ پچھتاویں گے کہ ان باتوں کو ہم نے کیوں نہ مانا۔ یہ لوگ ایک وار تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کرتے ہیں کہ ایک معجزہ آسمان پر جانے کا لوگوں نے مانگا مگر خدا نے آپ کی پروانہ کی اور عیسیٰ کو یہ عزت دی کہ اسے آسمان پر اٹھا لیا اور دوسرا حملہ خود خدا پر کرتے ہیں کہ اس نے اپنی قوت خلق سے مسیح کو بھی کچھ دے دی جس سے تشابہ الخلق ہو گیا۔ جواب دیتے ہیں کہ خدا نے خود مسیح کو یہ قدرت دی تھی۔ اے نادانو ! اگر خدائی نے تقسیم ہونا تھا تو کیا اس کے حصہ گیر عیسی ہی رہ گئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہ حصہ ملا۔ لے اس قدر تقریر ہو چکی تھی کہ بعض جان شاروں نے بہت وقت گذر جانے کی درخواست کی تاکہ آپ کی طبیعت کو زیادہ صدمہ نہ ہو اور سلسلہ تقریر ختم ہو جاوے۔ چنانچہ حضور نے دعا پر اسے ختم کیا۔ ۲۸ اگست ۱۹۰۴ء (بمقام لاہور ۔ سات بجے صبح) حضرت اقدس کی تقریر جوڈیڑھ ہزار سے زیادہ مجمع کے درمیان آپ نے فرمائی ) سب صاحب یاد رکھیں تو بہ کا دن جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک ہے کہ اللہ تعالی نے اسلام میں ایسے دن مقرر کئے ہیں کہ وہ دن بڑی خوشی کے دن سمجھے جاتے ہیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے عجیب عجیب برکات رکھی ہیں منجملہ ان دنوں کے ایک جمعہ کا دن ہے یہ دن بھی بڑا ہی مبارک ہے۔ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو جمعہ ہی کو پیدا کیا اور اسی دن ان کی تو بہ منظور ہوئی تھی اور بھی بہت سی برکات اور خوبیاں اس دن کی ماثور ہیں۔ ایسا ہی اسلام میں دو عیدیں ہیں ۔ ان دونوں دنوں کو بھی بڑی خوشی کے دن مانا گیا ہے اور ان میں بھی عجیب عجیب برکات رکھی ہیں۔ لیکن یا درکھو کہ یہ دن البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۸ ستمبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۳ تا ۸ و نمبر ۳۵ مورخه ۱۶ ارستمبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۱، ۲