ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 231

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۱ جلد ششم ہے کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ۔ انسان کے ہر عمل کا مدار اس کی نیت پر ہے۔ کسی کے دل کو چیر کر ہم نہیں دیکھ سکتے ۔ اگر کسی کی یہ نیت نہیں ہے کہ زیادہ بیویاں کر کے عورتوں کی لذات میں فنا ہو بلکہ یہ ہے کہ اس سے خادم دین پیدا ہوں تو کیا حرج ہے لیکن یہ امر بھی مشروط بشرائط بالا ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص کی چار بیویاں ہوں اور ہر سال ہر ایک سے ایک ایک اولا د ہو تو چار سال میں سولہ بچے ہوں گے مگر بات یہ ہے کہ لوگ دوسرے پہلوکو ترک کر دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ صرف ایک پہلو پر ہی زور دیا جاوے حالانکہ ہمارا یہ منصب ہر گز نہیں ہے۔ قرآن شریف میں متفرق طور پر تقویٰ کا ذکر آیا ہے۔ لیکن جہاں کہیں بیویوں کا ذکر ہے وہاں ضرور ہی تقویٰ کا بھی ذکر ہے ۔ ادائیگی حقوق ایک بڑی ضروری تھے ہے اسی لیے عدل کی تاکید ہے۔ اگر ایک شخص دیکھتا ہے کہ وہ حقوق کو ادا نہیں کر سکتا یا اس کی رجولیت کے قومی کمزور ہیں یا خطرہ ہو کہ کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہیے کہ دیدہ و دانستہ اپنے آپ کو عذاب میں نہ ڈالے۔ تقویٰ یعنی شرعی ضرورت جو اپنے محل پر ہوا اگر موجود ہو تو پہلی بیوی خود تجویز کرتی ہے کہ خاوند اور نکاح کرلے۔ آخری نصیحت ہماری یہی ہے کہ اسلام کو اپنی عیاشیوں کے لیے سپر نہ بناؤ کہ آج ایک حسین عورت نظر آئی تو اسے کر لیا ۔ کل اور نظر آئی تو اسے کر لیا ۔ یہ تو گویا خدا کی گدی پر عورتوں کو بٹھانا اور اسے بھلا دینا ہوا۔ دین تو چاہتا ہے کہ کوئی زخم دل پر ایسا ر ہے جس سے ہر وقت خدا تعالیٰ یاد آوے ورنہ سلپ ایمان کا خطرہ ہے۔ اگر صحابہ کرام عورتیں کرنے والے اور انہیں میں مصروف رہنے والے ہوتے تو اپنے سر جنگوں میں کیوں کٹواتے حالانکہ ان کا یہ حال تھا کہ ایک کی انگلی کٹ گئی تو اسے مخاطب ہو کے کہا کہ تو ایک انگلی ہی ہے اگر کٹ گئی تو کیا ہوا مگر جو شب و روز عیش و عشرت میں مستغرق ہے وہ کب ایسا دل لا سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم ہو جاتا ۔ صحابہ نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے تمام گناہ بخش دیئے ہیں پھر اس قدر مشقت اور رونے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا۔ کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ ہوں۔ لے ل البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخہ ۸ جولائی ۱۹۰۴ ء صفحه ۲، ۳ او