ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 232

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ جون ۱۹۰۴ء ۲۳۲ ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ نماز اصل میں دعا ہے نماز اصل میں دعا ہے نماز کایک ایک لفظ جو بولتا ہےوہ نشانہ دا کا ہوتا ہے۔ اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کے لیے تیار رہے کیونکہ جو شخص دعا نہیں کرتا وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دکھ اٹھاتا ہوں ۔ مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں ۔ میں بہت رحم کرتا ہوں۔ بیکسوں کی امداد کرتا ہوں لیکن ایک شخص جو کہ مشکل میں مبتلا ہے اس کے پاس سے گذرتا ہے اور اس کی ندا کی پروا نہیں کرتا نہ اپنی مشکل کا بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہوگا۔ یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے کہ وہ تو ہر وقت انسان کو آرام دینے کے لیے تیار ہے بشر طیکہ کوئی اس سے درخواست کرے۔ قبولیتِ دعا کے لیے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دعا بڑے زور سے کرے کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پیدا ہوتی ہے۔ إلى رَبِّكَ يَوْمِينِ الْمُسْتَقَرُّ (القيامة : ١٣) اس آیت کو قیامت پر چسپاں کرنا غلطی ہے کیونکہ اس دن تو خدا کی طرف رجوع کرنا کسی کام نہ آوے گا بلکہ یہ اس زمانہ کی حالت ہے کہ طاعون کے بارے میں خواہ کوئی حیلہ حوالہ کریں ہرگز کام نہ آوے گا۔ آخر مستقر خدا تعالیٰ ہی ہوگا۔ لوگ جب اس کو مانیں گے تب وہ اس سے رہائی دے گا۔ ايْنَ الْمَفَرُّ (القيامة : 11) بھی اسی پر چسپاں ہے کیونکہ دوسرے آفات میں تو کوئی نہ کوئی مفر ہوتا ہے مگر طاعون میں کوئی مفر نہیں ہے۔ صرف خدا کی پناہ ہی کام آوے گی ۔ خدا تعالیٰ کی طرف ظلم کبھی منسوب نہیں ہو سکتا جو صادق ہوگا وہ ضرور اپنے صدق سے نفع پاوے گا۔ یہ وہی دن ہیں ؟ دن ہیں جن کی نسبت کہا گیا ہے هُذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصُّدِقِينَ صِدْقُهُمُ ( المائدة : ١٢٠ ) ل البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۶ نیز الحکم جلد ۸ نمبر ۲۳، ۲۴ مورخہ ۱۷، ۲۴ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲