ملفوظات (جلد 6) — Page 230
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۰ جلد ششم ایک پہلو کو تو دیکھتے ہیں اور دوسرے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پادریوں نے اس بات کی طرف کبھی غور نہیں کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی میلان کس طرف تھا اور رات دن آپ کس فکر میں رہتے تھے۔ بہت سے ملا اور عام لوگ ان باریکیوں سے ناواقف ہیں۔ اگر ان کو کہا جاوے کہ تم شہوات کے تابع ہو تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم حرام کرتے ہیں؟ شریعت نے ہمیں اجازت دی ہے تو ہم کرتے ہیں۔ ان کو اس بات کا علم نہیں کہ بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريت : ۵۷) سے ظاہر ہے کہ انسان صرف عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے جس قدر ا سے درکار ہے اگر اس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شے حلال ہی ہو مگر فضول ہونے کی وجہ سے اس کے لئے حرام ہو جاتی ہے۔ جو انسان رات دن نفسانی لذات میں مصروف ہے وہ عبادت کا کیا حق ادا کر سکتا ہے۔ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک تلخ زندگی بسر کرے لیکن عیش و عشرت میں بسر کرنے سے تو وہ اس زندگی کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ ہمارے کلام کا مقصد یہ ہے کہ دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھا جاوے۔ یہ نہیں کہ صرف لذات کے پہلو پر زور دیا جاوے اور تقویٰ کو بالکل ترک کر دیا جاوے۔ اسلام نے جن کاموں اور باتوں کو مباح کہا ہے۔ اس سے یہ غرض ہرگز نہیں ہے کہ رات دن اس میں مستغرق رہے۔ صرف یہ ہے کہ بقدر ضرورت وقت پران سے فائدہ اٹھا یا جاوے۔ اس مقام پر پھر وہی صاحب بولے کہ اس سے تو یہ نتیجہ نکلا کہ تعدد ازواج بطور دوا کے ہے نہ بطور غذا کے۔ حضور نے فرمایا۔ ہاں ۔ اس پر انہوں نے عرض کی کہ ان اخبار والوں نے تو لکھا ہے کہ احمدی جماعت کو بڑھانے کے لیے زیادہ بیویاں کرو۔ حضور نے فرمایا کہ ایک حدیث میں یہ ہے کہ کثرت ازدواج سے اولاد بڑھاؤ تا کہ امت زیادہ ہو۔ اصل بات یہ