ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 229

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۹ جلد پر بنے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ ان کو دیکھ کر رو پڑے۔ آپؐ نے پوچھا اے عمر ! تجھ کو کس چیز نے رلایا؟ عمر نے عرض کی کہ کسری اور قیصر تو تنعم کے اسباب رکھیں اور آپ جو خدا کے رسول اور دو جہان : کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر مجھے دنیا سے کیا غرض ۔ میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو۔ ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں سستا لے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے۔ جس قدر نبی اور رسول ہوئے ہیں سب نے دوسرے پہلو (آخرت ) کو ہی مد نظر رکھا ہوا تھا۔ پس جاننا چاہیے کہ جو شخص شہوات کی اتباع سے زیادہ بیویاں کرتا ہے وہ مغز اسلام سے دور رہتا ہے۔ ہر ایک دن جو چڑھتا ہے اور رات جو آتی ہے اگر وہ تلخی سے زندگی بسر نہیں کرتا اور رو تا کم یا بالکل ہی نہیں روتا اور ہنستا زیادہ ہے تو یادر ہے کہ وہ ہلاکت کا نشانہ ہے۔ استیفاء لذات اگر حلال طور پر ہو تو حرج نہیں۔ جیسے ایک شخص ٹٹو پر سوار ہے اور راستہ میں اسے نہاری وغیرہ اس لیے دیتا ہے کہ اس کی طاقت قائم رہے اور وہ منزل مقصود تک اسے پہنچادے جہاں خدا تعالیٰ نے سب کے حقوق رکھے ہیں وہاں نفس کا بھی حق رکھا ہے کہ وہ عبادت بجالا سکے۔ لوگوں کے نزدیک چوری، زنا وغیرہ ہی گناہ ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں کہ استیفاء لذات میں مشغول ہونا بھی گناہ ہے۔ اگر ایک شخص اپنا اکثر حصہ وقت کا تو عیش و آرام میں بسر کرتا ہے اور کسی وقت اٹھ کر چار ٹکریں بھی مار لیتا ہے ( یعنی نماز پڑھ لیتا ہے ) تو وہ نمرودی زندگی بسر کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاضت اور مشقت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تو اس محنت میں مر جاوے گا۔ حالانکہ ہم نے تیرے لیے بیویاں بھی حلال کی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسے ہی فرمایا جیسے ماں اپنے بچے کو پڑھنے یا دوسرے کام میں مستغرق دیکھ کر صحت کے قیام کے لحاظ سے اسے کھیلنے کودنے کی اجازت دیتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا یہ خطاب اسی غرض سے ہے کہ آپ تازہ دم ہو کر پھر دین کی خدمت میں مصروف ہوں۔ اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ آپ شہوات کی طرف جھک جاویں۔ نادان معترض