ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 228

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۸ جلد ہی کم ہونا چاہیے تا کہ فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْلُوا كَثِيرًا (التوبة: ۸۲) یعنی ہنسو تھوڑا اور روؤ بہت کا مصداق بنو لیکن جس شخص کی دنیا وی تمتع کثرت سے ہیں اور وہ رات دن بیویوں میں مصروف ہے۔ اس کو رقت اور رونا کب نصیب ہوگا ۔ اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک خیال کی تائید اور اتباع میں تمام سامان کرتے ہیں اور اس طرح سے خدا تعالیٰ کے اصل منشا سے دور جا پڑتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے اگر چہ بعض اشیاء جائز تو کر دی ہیں، مگر اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔ خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا (الفرقان: ۱۵) کہ وہ اپنے ربّ کے لیے تمام تمام رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔ اب دیکھورات دن بیویوں میں غرق رہنے والا خدا کے منشا کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے ۔ وہ بیویاں کیا کرتا ہے گو یا خدا کے لیے شریک پیدا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے پھر بھی آپ ساری ساری رات خدا کی عبادت میں گزارتے تھے۔ ایک رات آپ کی باری عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی ۔ کچھ حصہ رات کا گذر گیا تو عائشہ کی آنکھ کھلی دیکھا کہ آپ موجود نہیں ۔ اسے شبہ ہوا کہ شاید آپ کسی اور بیوی کے ہاں گئے ہوں گے اس نے اٹھ کر ہر ایک کے گھر میں تلاش کیا مگر آپؐ نہ ملے ۔ آخر دیکھا کہ آپ قبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رورہے ہیں۔ اب دیکھو کہ آپ زندہ اور چاہتی بیوی کو چھوڑ کر مردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپ کی بیویاں حظ نفس یا اتباع شہوت کی بنا پر ہو سکتی ہیں؟ غرض کہ خوب یاد رکھو کہ خدا کا اصل منشا یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں اور تقویٰ کی تکمیل کے لیے اگر ضرورت حقہ پیش آوے تو اور بیوی کرلو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمر آپ سے ملنے گئے ۔ ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جب حضرت عمر اندر آئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ۔ حضرت عمر نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپ کی پشت مبارک رض