ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 227

ملفوظات حضرت مسیح موعود آپ نے فرمایا کہ ۲۲۷ ہمیں جو کچھ خدا تعالیٰ سے معلوم ہوا ہے وہ بلا کسی رعایت کے بیان کرتے ہیں۔ قرآن شریف کا منشا ز یادہ بیویوں کی اجازت سے یہ ہے کہ تم کو اپنے نفوس کو تقوی پر قائم رکھنے اور دوسرے اغراض مثل اولاد صالحہ کے حاصل کرنے اور خویش و اقارب کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی بجا آوری سے ثواب حاصل ہو اور اپنی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک دو تین چار عورتوں تک نکاح کر لولیکن اگر ان میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا۔ اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گے کہ ایک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے ۔ دل دکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں جب والدین ان کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالہ کرتے ہیں تو خیال کرو کہ کیا امید میں ان کے دلوں میں ہوتی ہیں اور جن کا اندازه انسان عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:۲۰) کے حکم سے ہی کر سکتا ہے۔ اگر انسان کا سلوک اپنی بیوی سے عمدہ ہو اور اسے ضرورت شرعی پیدا ہو جاوے تو اس کی بیوی اس کے دوسرے نکاحوں سے ناراض نہیں ہوتی ۔ ہم نے اپنے گھر میں کئی دفعہ دیکھا ہے کہ وہ ہمارے نکاح والی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لیے رو رو کر دعائیں کرتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ بیویوں کی ناراضگی کا بڑا باعث خاوند کی نفسانیت ہوا کرتی ہے اور اگر ان کو اس بات کا علم ہو کہ ہمارا خاوند صیح اغراض اور تقوی کے اصول پر دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔ فساد کی بنا تقویٰ کی خلاف ورزی ہوا کرتی ہے۔ خدا کے قانون کو اس کے منشا کے برخلاف ہرگز نہ برتنا چاہیے اور نہ اس سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہیے جس سے وہ صرف نفسانی جذبات کی ایک سپر بن جاوے۔ یاد رکھو کہ ایسا کرنا معصیت ہے۔ خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو بلکہ تمہاری غرض ہر ایک امر میں تقویٰ ہو۔ اگر شریعت کو سپر بنا کر شہوات کی اتباع کے لیے بیویاں کی جاویں گی تو سوائے اس کے اور کیا نتیجہ ہوگا کہ دوسری قو میں اعتراض کریں کہ مسلمانوں کو بیویاں کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں ۔ زنا کا نام ہی گناہ نہیں بلکہ شہوات کا کھلے طور پر دل میں پڑ جانا گناہ ہے۔ دنیا وی تمتع کا حصہ انسانی زندگی میں بہت