ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 222

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۲ یکم جون ۱۹۰۴ء ( قبل از شام ) دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے وہ جب چاہے اس دعا چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اسے کسی بد معاشی میں میسر آ سکتا ہے بیچ ہے۔ بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الہی ہے۔ دعا کے ذریعہ ہی انسان خدا کے نزدیک ہو جاتا اور اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔ جب مومن کی دعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہو جاتا ہے تو خدا کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور خدا اس کا متولی ہو جاتا ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الہی توٹی کے بغیر انسانی زندگی قطعاً تلخ ہو جاتی ہے۔ دیکھ لیجئے کہ جب انسان حد بلوغت پر پہنچتا ہے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھنے لگتا ہے تو نامرادیوں نا کامیابیوں اور قسم قسم کے مصائب کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ وہ ان سے بچنے کے لیے طرح طرح کی کوششیں کرتا ہے۔ دولت کے ذریعہ اپنے تعلق حکام کے ذریعہ قسما قسم کے حیلہ وفریب کے ذریعہ وہ بچاؤ کے راہ نکالتا ہے، لیکن مشکل ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو۔ بعض وقت اس کی تلخ کامیوں کا انجام خود کشی ہو جاتی ہے۔ اب اگر ان دنیا داروں کے عموم و ہموم اور تکالیف کا مقابلہ اہل اللہ یا انبیاء کے مصائب کے ساتھ کیا جاوے تو انبیاء علیہم السلام کے مصائب بمقابل اول الذکر جماعت کے مصائب بالکل پیچ ہیں۔ لیکن یہ مصائب و شدائد اس پاک گروہ کو رنجیدہ یا محزون نه محزون نہیں کر سکتے ۔ ان کی خوشحالی اور سرور میں فرق نہیں آتا کیونکہ وہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی توتی میں پھر رہے ہیں ۔ دیکھو اگر ایک شخص کا ایک حاکم سے تعلق ہو اور مثلاً اس حاکم استقامت ایک معجزہ ہے نے اسے اطمینان بھی دیا ہو کہ وہ اپنے مصائب کے وقت اس