ملفوظات (جلد 6) — Page 223
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۳ سے استعانت کر سکتا ہے تو ایسا شخص کسی ایسی تکلیف کے وقت جس کی گرہ کشائی اس حاکم کے ہاتھ میں ہے عام لوگوں کے مقابل کم درجہ رنجیدہ اور غمناک ہوتا ہے تو پھر وہ مومن جس کا اس قسم کا بلکہ اس سے بھی زیادہ مضبوط تعلق احکم الحاکمین سے ہو وہ کب مصائب و شدائد کے وقت گھبراوے گا۔ انبیاء علیہم السلام پر جو مصیبتیں آتی ہیں اگر ان کا عشر عشیر بھی ان کے غیر پر وارد ہو تو اس میں زندگی کی طاقت باقی نہ رہے۔ یہ لوگ جب دنیا میں بغرضِ اصلاح آتے ہیں تو ان کی گل دنیا دشمن ہو جاتی ہے۔ لاکھوں آدمی ان کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں لیکن یہ خطرناک دشمن بھی ان کے اطمینان میں خلل انداز نہیں ہو سکتے ۔ اگر ایک شخص کا ایک دشمن بھی ہو تو وہ کسی لمحہ بھی اس کے شر سے امن میں نہیں رہتا چہ جائیکہ ملک کا ملک ان کا دشمن ہو اور پھر یہ لوگ با امن زندگی بسر کریں ان تمام تلخ کامیوں کو ٹھنڈے دل سے برداشت کر لیں ۔ یہ برداشت ہی معجزہ وکرامت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت ان کے لاکھ معجزوں سے بڑھ کر ایک معجزہ ہے۔ گل قوم کا ایک طرف ہونا۔ دولت ، سلطنت ، دنیوی وجاہت حسینہ جمیلہ بیویاں وغیرہ سب کچھ کے لالچ قوم کا اس شرط پر دینا کہ وہ اعلائے کلمۃ اللہ لا إِلَهَ إِلا الله سے رک جاویں لیکن ان سب کے مقابل جناب رسالت مآب کا قبول کرنا اور فرمانا کہ میں اگر اپنے نفس سے کرتا تو یہ سب باتیں قبول کرتا میں تو حکم خدا کے ماتحت یہ سب کچھ کر رہا ہوں اور پھر دوسری طرف سب تکالیف کی برداشت کرنا یہ ایک فوق الطاقت معجزه ہے۔ یہ سب طاقت اور برداشت اس دعا کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے جو مومن کو خدا نے عطا کی ہے۔ ان لوگوں کی دردناک دعا بعض وقت قاتلوں کے سفا کا نہ حملہ کو توڑ دیتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لیے جانا آپ لوگوں نے سنا ہوگا۔ ابوجہل نے ایک قسم کا اشتہار قوم میں دے رکھا تھا کہ جو جناب رسالت مآب کو قتل کرے گا وہ بہت کچھ انعام واکرام کا مستحق ہوگا۔ حضرت عمرؓ نے مشرف باسلام ہونے سے پہلے ابو جہل سے معاہدہ کیا اور قتل حضرت کے لیے آمادہ ہو گیا۔ اس کو کسی عمدہ وقت کی تلاش تھی۔ دریافت پر اسے معلوم ہوا کہ حضرت نصف شب کے وقت خانہ کعبہ میں بغرض نماز آتے ہیں۔ یہ وقت عمدہ سمجھ کر حضرت عمرؓ سر شام خانہ کعبہ میں جا چھپے۔