ملفوظات (جلد 6) — Page 221
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۱ جلد ششم آسمان پر رہبانیت کے انقطاع کی کچھ قدر نہیں۔ صوفی منقطعین بھی نمونے دکھاتے رہے ہیں کہ بازن و فرزند اور باخدار ہے ہیں پھر جب وقت آیا تو زن و فرزند کو چھوڑا، اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گئے ۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف منقطع ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حال دیکھئے کیا انقطاع کا نمونہ ان سے ظاہر ہوا۔ جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ضائع کرنا چاہتا ہے اللہ اس کو ضائع نہیں کرتا اور اس کا نشان دنیا سے معدوم نہیں کرتا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسا اخلاص ظاہر کریں اور اس قدر کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جائے دوست دوست سے راضی نہیں ہو سکتا جب تک اس کے لیے وفاداری ظاہر اور ثابت نہ ہو۔ کسی کے دو خدمتگار ہوں ایک وفادار اور مخلص ثابت ہوا اور اپنے فرائض کو نہ رسم و رواج اور دباؤ سے بلکہ پوری محبت اور وفاداری اور اخلاص سے ادا کرے اور دوسرا ایسا ہو جو بے دلی سے اور رسمی طور پر کچھ کام کرے تو ان میں سے مالک اسی پہلے پر راضی ہوگا اور اسی کی باتوں کو سنے گا اور اسی پر اعتبار کرے گا اور وفادار ہی کو پیار کرے گا۔ فی اعوج کے زمانہ میں تعصب بڑھ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ عَادًا وَلِيًّا لِي فَعَادَا إِلَى ان لوگوں کو یہ خیال نہیں کہ ان کے تعصب نے ان کو خدا سے بالکل دور کر دیا ہے۔ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ جس قدر ہم لوگ ہیں وہ سب نہ ہوں گے ۔ رسمی نمازوں سے خدا راضی نہیں ہوتا ۔ دنیا کے دوست بھی صرف الفاظ سے نہیں بنتے اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام کا لفظ ہی مسلمان بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور حکموں پر گردن جھکائی جاوے۔ یہ لقب کسی اور ملت کو نہیں دیا گیا۔ اس اُمت پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔ اسلام جس بات کو چاہتا ہے وہ اسی جگہ سے اسلام کے ذریعہ سے حاصل ہو جاتا ہے۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتن (الرحمن: ۴۷) خدا کے دیدار کے واسطے اسی جگہ سے حواس ملتے ہیں ۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَی (بنی اسراءیل : (۷۳) جو یہاں خدا نہیں دیکھتا وہ وہاں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ اے البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۳ تا ۶