ملفوظات (جلد 6) — Page 220
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۰ جلد ششم - طرف بیوی بیواؤں کی طرح ہو جائے اور بچے یتیموں کی طرح ہو جائیں ۔ قطع رحم ہو جائے بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ بیوی بچوں کا پورا تعہد کرے۔ ان کی پرورش پورے طور سے کرے اور حقوق ادا کرے ۔ صلہ رحم کرے لیکن دل ان میں اور اسباب دنیا میں نہ لگاوے ۔ دل با یار دست بکار رہے اگر چہ یہ بات بہت نازک ہے مگر یہی سچا انقطاع ہے جس کی مومن کو ضرورت ہے۔ وقت پر خدا کی طرف ایسا آ جاوے کہ گویا وہ ان سے کو راہی تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت لکھتے ہیں کہ حضرت امام حسین صاحب نے ایک دفعہ سوال کیا کہ آپ مجھے محبت کرتے ہیں ۔ حضرت علی نے فرمایا ۔ ہاں ۔ پھر پوچھا آپ اللہ سے محبت رکھتے ہیں حضرت علی نے فرمایا۔ ہاں ۔ حضرت حسین علیہ السلام نے اس پر بڑا تعجب کیا اور کہا کہ ایک دل میں دو محبتیں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں پھر حضرت حسین علیہ السلام نے کہا کہ وقت مقابلہ پر آپ کس سے محبت کریں گے۔ فرمایا اللہ سے ۔ غرض انقطاع ان کے دلوں میں مخفی ہوتا ہے اور وقت پر ان کی محبت صرف اللہ کے لیے رہ جاتی ہے ۔ مولوی عبد اللطیف صاحب نے عجیب نمونہ انقطاع کا دکھلایا ۔ جب انہیں گرفتار کرنے آئے تو لوگوں نے کہا کہ آپ گھر سے ہو آئیں ۔ آپ نے فرمایا میرا ان سے کیا تعلق ہے۔ خدا سے میرا تعلق ہے سو اس کا حکم آن پہنچا ہے۔ میں جاتا ہوں۔ ہر چیز کی اصلیت امتحان کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔ اصحاب رسول اللہ سب کچھ رکھتے تھے۔ زن و فرزند اور اموال اور اقارب سب کچھ ان کے موجود تھے۔ عرب تیں اور کاروبار بھی رکھتے تھے مگر انہوں نے اس طرح شہادت کو قبول کیا کہ گویا ایک شیریں پھل انہیں میسر آ گیا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے موت کو پسند کرتے ۔ ایک طرف تعہد حقوق عیال و اطفال میں کمال دکھایا اور دوسری طرف ایسا انقطاع کہ گویا وہ بالکل کورے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے لیے موت کو پسند کرتے کبھی نامردی نہ دکھاتے بلکہ آگے ہی قدم رکھتے ۔ ایسی محبت سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جان دیتے تھے کہ بیوی بچوں کو بلا جیسی سمجھتے تھے۔ اگر بیوی بچے مزاحم ہوں تو ان کو دشمن سمجھتے تھے اور یہی معنے انقطاع کے ہیں۔ آجکل کے رہبانوں کی طرح نہیں کہ بالکل بیوی بچے سے تعلق چھوڑ دے اور سارے جہاں سے ایک طرف ہو جائے۔