ملفوظات (جلد 6) — Page 219
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۹ جلد ششم تک اللہ تعالیٰ اس کی طرف رجوع نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات میں بے نظیر صفات ہیں جو لوگ اس کی راہ پر چلتے ہیں۔ انہیں کو اس سے اطلاع ملتی ہے اور وہی اس سے مزہ پاتے ہیں۔ خدا سے رشتہ میں اس قدر شیرینی اور لذت ہوتی ہے کہ کوئی پھل ایسا شیریں نہیں ہوتا ۔ خدا تعالیٰ سے جلدی کوئی شخص خبر گیراں نہیں ہو سکتا۔ پھر جس کا خدا متولی ہو جاتا ہے اس کو کئی فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ راحت پاتا ہے جو کسی دنیا دار کو نصیب ہونا نا ممکن ہے اور ایسی لذت پاتا ہے جو کہیں دوسری جگہ نصیب نہیں ہو سکتی اور اس کا متولی ایسا زبردست ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک مشکل سے بہت جلدی نکالتا اور خبر گیری کرتا ہے ۔ یہ لوگ بالکل بے ہودہ جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ جھوٹی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔ نماز اگر پڑھتے ہیں تو ریا کے لیے پڑھتے ہیں وہ نماز جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلائی تھی وہ نہیں پڑھتے ۔ یہ وہ نماز ہے جس کے پڑھنے سے انسان ابدال میں داخل ہو جاتا ہے۔ گناہ اس کے دور ہو جاتے ہیں۔ دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ انسان خدا کا قرب حاصل کر لیتا ہے ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت: ٣) لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں کافی ہے اور کوئی امتحانی مشکل پیش نہ آئے گی ۔ یہ بالکل غلط خیال ہے۔ اللہ تعالیٰ مومن پر ابتلا بھیج کر امتحان کرتا ہے۔ تمام راست بازوں سے خدا کی یہی سنت ہے وہ مصائب اور شدائد میں ضرور ڈالے جاتے ہیں۔ انقطاع إلى الله مصائب بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ مصائب ہیں جو زیر سایہ شریعت ہوتے ہیں۔ انسان احکام کی تعمیل کے لیے انقطاع حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس طرف ہر ایک دنیاوی تعلق میں جو کشش ہے وہ اس کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ بیوی، بچے ، دوست ، دنیا داری کی رسوم کے تعلقات چاہتے ہیں کہ ہماری کشش اس پر ایسی ہو کہ وہ ہماری طرف کھنچا چلا آوے اور ہم میں ہی محور ہے۔ تعمیل احکام کی کشش ان سے انقطاع کا تقاضا کرتی ہے۔ ان سب کا چھوڑنا ایک موت کا سامنا ہوتا ہے ۔ ہمارا یہ مطلب تو نہیں کہ ان سب کو اس طرح چھوڑے کہ ان سے کوئی تعلق ہی نہ رکھے۔ ایک