ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 211

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۱ جلد نہ مٹایا جائے گا صرف سرزنش کے طور پر کچھ عذاب ان میں نازل کیا جائے گا اور تازیا نہ کر کے عذاب ہٹا لیا جائے گا۔ دوسرے بہت سے شہر فنا ہوں گے مگر وہ فنا نہ ہوں گے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قادیان کو اسی قسم میں شامل کیا ہے اور اس الہام إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَة سے مراد یہی ہے کہ اور بستیوں کی طرح ہمارے گاؤں کو طاعون جارف بالکل تباہ نہ کرے گی کہ لوگ تلاش کرتے پھریں کہ کہاں قادیان واقع تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ان بستیوں کی طرح خدا اس کو تباہ نہ کرے گا بلکہ یہ بچی رہے گی الا بطور تا زیا نہ کچھ سزا دے کر اس کو بچالیا جائے گا۔ ہم نے بار بار مجلسوں میں بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ سے یہ مراد ہے کہ خدا نے اس قریہ کو پناہ دے دی ہے کہ وہ طاعون جارف سے بچی رہے اور بالکل فنا نہ ہو۔ خدا نے یہ وعدہ نہیں کیا کہ باوجود گنہگار ہونے کے اللہ تعالیٰ بغیر عذاب کے چھوڑ دے۔ ایک طرف تو قرآن میں یہ لکھا ہے کہ طاعون سے کوئی بستی خالی نہیں رہے گی اور طاعون کی وجہ صرف یہی ہے جو اِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بانفسھم کے الہام سے ظاہر ہے یعنی جب لوگوں نے اپنے افعال اور اعمال سے غضب الہی کے جوش کو بھڑ کا یا اور بد عملیوں سے اپنی حالتوں کو ایسا بدل لیا کہ خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی ہر ایک راہ کو چھوڑ دیا اور بجائے اس کے طرح طرح کے فسق و فجور کو اختیار کر لیا اور خدا پر ایمان سے بالکل ہاتھ دھو دیا۔ دہریت اندھیری رات کی طرح دنیا پر محیط ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی چہرے کو ظلمت کے نیچے دبا دیا تو خدا نے اس عذاب کو نازل کیا تا لوگ خدا کے چہرے کو دیکھ لیں اور اس کی ط اور اس کی طرف رجوع کریں۔ بعض بستیاں مُهْلِکھا میں داخل ہو کر بالکل فنا ہو جائیں گی اور بعض مُعَذِّبُوهَا میں داخل ہوں گی لیکن خالی کوئی نہ رہے گی ۔ قادیان مُهْلِكُوا میں داخل نہ ہوگی ۔ یہی مراد الہام انه اوى الْقَرْيَةَ سے ہے۔ گناہوں کی سرزنش کرنے کے لیے خدا نے یہاں بھی طاعون نازل فرمائی ۔ خدا تو فرماتا ہے کہ لو لا الإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ - یعنی قادیان مُهْلِكُوھا میں داخل کر دیا جاتا لیکن صرف تمہاری تکریم اور تعظیم سے اس کو مُهْلِكُوھا میں داخل نہیں کیا گیا جو بچے ہیں اور جو بچیں گے وہ تمہارے اکرام کی وجہ سے بچیں گے۔ یہ تو قرآن کے بالکل مخالف ہے کہ قادیان عذاب طاعون سے