ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 212

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۲ بالکل محفوظ رہے۔ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بانفسهم (الرعد: ۱۲) دوسری طرف إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ کے اگر یہ معنے ہوں کہ قادیان بالکل بچ گئی تو ان دونوں کے درمیان تضاد واقع ہوتا ہے۔ دو ضد میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ ہم نے کبھی إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ کے یہ معنی نہیں سمجھے طاعون تو دنیا کی ہر ایک بستی میں آئے گی۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ جہاں کسی نے دعویٰ کیا کہ فلاں مقام میں طاعون نہیں تو اسی جگہ وہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ دہلی والوں نے بڑے زور سے لکھا تھا کہ دو وجوہ سے وہاں طاعون نہیں آتی اور نہ آئے گی ۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں کے لوگ بہت صفائی رکھتے ہیں۔ دوسرے مچھروں کا وہاں نہ ہونا۔ اب گزٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی طاعون آگئی۔ لاہور کی نسبت کہا جاتا تھا کہ اس کی سر زمین میں ایسے اجزا ہیں کہ اس میں طاعونی کیڑے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن وہاں بھی طاعون نے آن ڈیرا ڈالا ہے۔ ابھی لوگوں کو معلوم نہیں ہے لیکن سالہا سال کے بعد لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہوگا ۔ کئی لوگ اور دیہات بالکل تباہ ہو جائیں گے۔ دنیا سے ان کا نام ونشان مٹ جائے گا اور ان کے آثار تک باقی نہ رہیں گے۔ لیکن یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہ ہوگی۔ یہ ایک لمبی بیماری ہے عمروں تک چلی جاتی ہے۔ بڑے بڑے قطعے اسی نے برباد کر کے جنگل کر دیئے ۔ شہروں کے شہر ویرانے بنا دیئے ۔ سینکڑوں کوس ایسے غیر آباد کئے کہ جانور بھی زندہ نہ رہے۔ اس کے آگے تو بڑے بڑے شہر بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتے ۔ بڑے سے بڑے آباد شہر کو بھی اگر چاہے تو دو تین دن میں صاف کر سکتی ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحه ۳