ملفوظات (جلد 6) — Page 210
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۰ رتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے بدظنی کرتا ہے وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنے لیے کوئی دوسرا معبود بنائے اور کرتا شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جب انسان اس بات کو سمجھتا ہے کہ خدا کریم و رحیم ہے اور اس بات پر ایمان صدق دل سے لاتا ہے کہ اس کے وعدہ ٹلنے کے نہیں تو وہ اس پر جان فدا کرتا ہے اور در پردہ خدا سے عشق رکھتا ہے ۔ ایسا انسان خدا کا چہرہ اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔ طرح طرح سے اس کی مدد کرتا ہے اور اپنے انعامات اس پر نازل کرتا ہے اور اس کو تسلی بخشتا ہے اور محبت اور وفا کا چہرہ دکھاتا ہے لیکن بے وفا غدار ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔ لے ۲۱ رمتی ۱۹۰۴ء ( بمقام گورداسپور ) طاعون اور الہام انه اوى القرية بوقت ایک بجے بمقام چیری گورداسپور درشت إِنَّهُ الْقَرْيَةَ جامن کے نیچے بیٹھے ہوئے حکیم نور محمد صاحب نے ذکر کیا کہ ایک شخص نے مجھ سے دریافت کیا تھا کہ آپ لوگ احمدی جماعت کے جو یہ کہتے ہیں کہ طاعون سے ہم بچے رہیں گے اس کی وجہ کیا ہے۔ حکیم صاحب نے اس کے جواب میں جو کچھ اس نے تقریر کی تھی وہ سنائی پھر اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَ اِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا (بنی اسراءیل : ۵۹) یعنی طاعون کا عذاب دو طرح پر ہوگا کوئی بستی اس سے خالی نہیں رہے گی۔ بعض تو ایسی ہوں گی کہ جن کو ہم بالکل ہلاک کر دیں گے یعنی وہ اجڑ کر بالکل غیر آباد ہو جائیں گی اور ویرانہ اور تھہ ( اجڑے ہوئے کھنڈرات ) ہو جائیں گی ۔ ان کا کوئی نشان بھی نہ رہے گا۔ لوگ تلاش کرتے پھریں گے کہ اس جگہ فلاں بستی آباد تھی۔ لیکن پھر بھی پتا نہ ملے گا۔ گویا طاعون وہاں جا روب دے کر اس کو دنیا سے صاف کر دے گی اور کوئی آثار اس کے نہ چھوڑے گی ۔ بعض قریئے ایسے ہوں گے کہ جن کو کم و بیش عذاب کر کے چھوڑ دیا جائے گا۔ اور صفحہء دنیا سے ان کا نام از ریویو) البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۴ صفحه ۳، ۴