ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 209

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۹ جلد جن لوگوں کو محبت الہی ہوتی ہے وہ اس محبت کو چھپاتے ہیں جس سے ان کے دل لبریز ہوتے ہیں بلکہ اس کے افشا پر وہ شرمندہ ہوتے ہیں کیونکہ محبت اور عشق ایک راز ہے جو خدا اور اس کے بندہ کے درمیان ہوتا ہے اور ہمیشہ راز کا فاش ہونا شرمندگی کا موجب ہوتا ہے۔ کوئی رسول نہیں آیا جس کا راز خدا سے نہیں ہوتا ۔ اسی راز کو چھپانے کی خواہش اس کے اندر ہوتی ہے مگر معشوق خود اس کو فاش کرنے پر جبر کرتا ہے اور جس بات کو وہ نہیں چاہتے وہی ان کو ملتی ہے جو چاہتے ہیں ان کو ملتا نہیں اور جو نہیں چاہتے ان کو جبراً ملتا ہے۔ جب تک انسان ادنیٰ حالت میں ہوتا ہے اس کے خیالات بھی ادنی ہی ہوتے ہیں اور جس قدر معرفت میں گرا ہوا ہوتا ہے اسی قدر محبت میں کمی ہوتی ہے۔ معرفت سے حسنِ ظن پیدا ہوتا ہے۔ ہر شخص میں محبت اپنے ظن کی نسبت سے ہوتی ہے۔ انا عِنْدَ ظَنِ عَبْدِی ہی سے یہی تعلیم ملتی ہے۔ صادق عاشق جو ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے کہ اس کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ خدا تو وفاداری کرنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انسان صدق دکھلاوے اور اس پر طن نیک رکھے کہ تا وہ بھی وفا دکھلائے مگر یہ لوگ کب اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ تو اپنی ہوا و ہوس کے بتوں کے آگے جھکتے رہتے ہیں اور ان کی نظر دنیا تک ہی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کو کریم و رحیم نہیں سمجھتے۔ اس کے وعدوں پر ذرہ ایمان نہیں رکھتے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان رکھتے کہ وہ کریم و رحیم ہے تو وہ بھی ان پر رحمت اور وفا کے ثبوت نازل کرتا ۔ گر وزیر از خدا بترسیدی ہمچناں کز ملک ملک بودے اللہ تعالی سے بدظنی مت کرو شر باطنی سے پیدا ہوتا ہے۔ قرآن شریف کو اول ہے آخر تک پڑھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سے بدظنی مت کرو۔ اللہ کا ساتھ نہ چھوڑو ۔ اسی سے مدد مانگو۔ اللہ تعالیٰ ہر میدان میں مومن کی مدد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں میدان میں تیرے ساتھ ہوں وہ اس کے لیے ایک فرقان پیدا کر دیتا ہے جو اس کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرتا وہ بدظنی کرتا ہے جو شخص خدا سے نیک ظن کرتا ہے وہ اس کی طرف رجوع