ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 13

ملفوظات حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کی ہستی پر بخشتا ہے۔ اے ۱۳ لیکن جب انسان خدا تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے اور شعائر اللہ کی پروا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی ن جب انسان خدا اس سے بے پروا ہو جاتا ہے اور اُس شخص اور ایسی قوم کو تباہ کر دیتا ہے چنانچہ چغتائی سلطنت نے جب دین سے غافل ہو کر بہائم کی سی سیرت اختیار کر لی تو پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ وہ سلطنت جو صدیوں سے چلی آتی تھی اس کا کچھ بھی باقی نہ رہا اور ایک مشاعر پر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ پس انسان کو ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ کھلی اور چھپی ہوئی بدکاریاں آخر انسان پر وہ گھڑی لے آتی ہیں جس کا اسے آسائش کے ایام میں وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کا خوف ہر وقت دل پر رہے اور اس کی عظمت و جبروت سے ڈرتا رہے اور اعمالِ صالحہ کی کوشش کرتا رہے اور پھر دعا کے ساتھ اس کی توفیق مانگے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔ اس قدر تقریر اعلیٰ حضرت نے فرمائی تھی کہ مشیر اعلیٰ صاحب نے بڑے تکلف سے ذیل کا سوال آپ سے پوچھا۔ (ایڈیٹر ) سوال ۔ آپ کی طرف سے نبی یا رسول ہونے کے کلمات شائع ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ میں عیسی سے افضل ہوں اور اور بھی تحقیر کے کلمات بعض اوقات ہوتے ہیں جن پر لوگ اعتراض کرتے ہیں ۔ حضرت اقدس ۔ ہماری طرف سے کچھ نہیں ہوتا۔ میں ان باتوں کا خواہشمند نہیں تھا کہ کوئی میری تعریف کرے اور میں گوشہ نشینی کو ہمیشہ پسند کرتا رہا لیکن میں کیا کروں جب خدا تعالیٰ نے مجھے باہر نکالا۔ یہ کلمات میری طرف سے نہیں ہوتے ۔ اللہ تعالیٰ جب مجھے ان کلمات سے مخاطب کرتا ہے اور میں بالمواجہ اس کا کلام سنتا ہوں پھر میں کہاں جاؤں لوگوں کے اعتراضوں اور نکتہ چینیوں کی پر واکروں یا اللہ تعالیٰ کے کلام پر ایمان لاؤں؟ میں دنیا اور اس کے اعتراضوں کی کوئی حقیقت اور اثر نہیں سمجھتا لیکن خدا تعالیٰ کو چھوڑنا اور اس کے کلام سے سرگردانی کرنا اس کو بہت ہی برا سمجھتا ہوں اور میں اس کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ اگر ساری دنیا میری مخالف ہو جائے اور ایک متنفس بھی میرے ساتھ بلکہ گل کا ئنات میری دشمن ہو پھر بھی میں اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے انکار نہیں کر سکتا۔ دنیا اور نہ ہو الحکم جلد ۸ نمبر۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱، ۲