ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 14

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ جلد ششم اس کی ساری ساری شان و شوکت اس جلیل کلام اور خطاب کے سامنے بیچ اور مردار ہیں۔ میں ان کی ان کی کبھی پروا نہیں کرتا۔ پس کوئی اعتراض کرے یا کچھ کہے میں خدا تعالیٰ کے کلام کو اور خدا کو چھوڑ کر کہاں جاؤں ۔ اسی مضمون کوا مون کو اعلیحضرت کے قصیدہ الہامیہ کے ایک شعر میں یوں ادا کیا گیا ہے۔ - حکم است از آسمان بز میں سے رسانمش گر بشنوم نگویمش آن را کجا برم (ایڈیٹر) اور یہ بالکل غلط ہے کہ میں انبیاء ورسل یا صلحاء امت کی تحقیر کرتا ہوں۔ جیسے میں ابرار واخیار کا درجہ سمجھ سکتا ہوں اور ان کے مقام و قرب کا جتنا علم مجھے ہے کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم سب ایک ہی ہے کیونکہ گروہ سے ہیں اور الْجِنْسُ مَعَ الْجِنْسِ کے موافق دوسرے اس درجہ کے سمجھنے سے عاری ہیں۔ حضرت عیسی اور امام حسین کے اصل مقام اور درجہ کا جتنا مجھ کو علم ہے دوسرے کو نہیں ۔ جو ہری ہی جو ہر کی حقیقت کو سمجھتا ہے۔ اس طرح پر دوسرے لوگ خواہ امام حسین کو سجدہ کریں مگر وہ ان کے رتبہ اور مقام سے محض نا واقف ہیں اور عیسائی خواہ حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا یا خدا جو چاہیں بناویں مگر وہ ان کے اصل اتباع اور حقیقی مقام سے بے خبر ہیں اور ہم ہر گز تحقیر نہیں کرتے۔ مشیر اعلیٰ ۔ عیسائی خواہ خدا بناویں لیکن مسلمان تو نبی سمجھتے ہیں۔ اس صورت میں ایک نبی کی تحقیر ہوتی ہے۔ حضرت اقدس ۔ ہم بھی حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کا سچا نبی یقین کرتے ہیں اور سچے نبی کی تحقیر کرنے والے کو کافر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح پر حضرت امام حسین کی بھی جائز عزت کرتے ہیں لیکن جب عیسائیوں سے مباحثہ کیا جاوے وہ راضی نہیں ہوتے جب تک عیسی کو اللہ یا ابن اللہ نہ کہا جاوے۔ اس لیے جو کچھ ان کی کتاب پیش کرتی ہے وہ دکھانا پڑتا ہے تا کہ ایک کفر عظیم کو شکست ہو۔ مشیر اعلیٰ ۔ ان کے مقابلہ میں اگر ان کی تردید کی جاوے۔ یہ تو اچھی بات ہے مگر ایک اُصول صحیح کو تو ان کی خاطر نہیں چھوڑ نا چاہیے۔ حضرت اقدس۔ اصول صحیح وہ ہو سکتا ہے جس پر اللہ تعالی قائم کرے۔ ہم ان اُصولوں پر چلتے ہیں جن پر ہم کو اللہ تعالیٰ چلاتا ہے۔ اگر کوئی اس وقت ان باتوں کو استہزا کی نظر سے دیکھتا ہے اور