ملفوظات (جلد 6) — Page 12
ملفوظات حضرت مسیح موعود الم جلد ششم سکے لیکن جب یہ عقیدہ ہو کہ بجز ایک یا دو کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت میں کسی کی بھی اصلاح نہیں ہوئی تو پھر ہم کو منہ دکھانے کی بھی جگہ نہیں رہتی ۔ اس صورت میں ہم ان کے سامنے کیا پیش کر سکتے ہیں؟ قرآن شریف کی اس سے کیا عزت رہی۔ ایک طرف تو ہم یہ مانتے اور پیش کرتے ہیں کہ قرآن کریم خاتم الکتب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور نبوت ختم ہو چکی۔ دوسری طرف اس کی تاثیرات کو یہاں تک ظاہر کرتے ہیں کہ ایک آدمی کے سوا کوئی درست نہ ہو سکا اور جب اس پر ان اعتراضوں کو جمع کیا جاوے جو مخالف کرتے ہیں تو پھر نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک بھی درست نہیں ہوا بلکہ سارے مرتد ہو گئے ۔ اس عقیدہ کی شناعت کو خوب غور سے سوچو کہ اس کا اثر اسلام پر کیا پڑتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو یہ یوں مخالف ہوئے اور قرآن شریف کے برخلاف اس طرح پر ہیں کہ کہتے ہیں اصل قرآن شریف نہیں رہا۔ جو اب موجود ہے وہ محترف مبدل ہو گیا ہے اور اصل قرآن مہدی کسی غار میں لے کر چھپا ہوا ہے اب تک نہیں نکلتا۔ دنیا گمراہ ہو رہی ہے اور اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔ مخالف ہنسی کرتے ہیں اور خطر ناک تو ہین کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ میں بقول ان کے قرآن شریف بھی نہیں ہے اور مہدی ہے کہ وہ غار سے ہی نہیں نکلتا۔ کوئی سمجھدار آدمی خدا سے ڈر کر ہمیں بتائے کہ کیا یہ بھی دین ہو سکتا ہے اور اس سے کوئی آدمی روحانی ترقی کر سکتا ہے یہ محض افسانے اور خیالی باتیں ہیں۔ حقیقت اور سچ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلیٰ درجہ کی روحانی قوت اور تاثیر کے ساتھ بھیجا تھا جس کا اثر ہر زمانہ میں پایا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو خدمت اسلام کی کی ہے اور جس طرح پر انہوں نے اپنے خون سے اس باغ کی آبپاشی کی ہے اس کی نظیر دنیا کی پرا کسی تاریخ میں نہیں ملے گی ان کی خدمات اسلام کے لیے نہایت ہی قابلِ قدر اور اعلیٰ درجہ کی ہیں۔ اور جب خدا تعالیٰ کے دین میں سستی واقع ہونے لگتی ہے اور کمی فہم یا مرور زمانہ کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہو کر یہ پاک دین بگڑنے لگتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک شخص کو مامور کر کے بھیجتا ہے جو اُس کے بلائے بولتا ہے اور روح القدس کی تائید اُس کے ساتھ ہوتی ہے وہ ان غلط فہمیوں اور خرابیوں کو دور کرتا ہے جو علمی طور پر دین میں پیدا ہو جاتی ہیں اور اپنے عملی نمونہ اور قدسی قوت کے ساتھ ایک نیا ایمان دنیا