ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 200

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۰ جلد شش اسلام پر ہے کہ شرفا کی اولا د دشمن اسلام ہو کر گر جاؤں میں چلے گئے اور کھلے طور پر رسول اکرم کی تو ہین ہو رہی ہے۔ ہر ایک قسم کی گالی اور سب وشتم میں ان کو یاد کیا جاتا ہے۔ ان تمام امور کو بہ ہیئت مجموعی اگر دیکھا جائے تو عقل کہتی ہے کہ یہی وقت خدا کی تائید کا ہے اور میں تم کو سچ کہتا ہوں کہ اگر یہ سلسلہ قائم نہ ہوتا تو اسلام برباد ہو چکا تھا۔ سو خدا کے وجود کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ عین ضرورت کے وقت خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور عین مصیبت کے وقت اسلام کو سنبھالا ۔ تائیدات سماوی بھی اگر دیکھی جاویں تو یہاں بھی ایک بڑا خزانہ ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہزار ہا نشان میرے ہاتھ پر ظاہر کئے ۔ اگر میں ان تمام نشانوں کو جمع کروں جو ہر روز میں اور میرے ساتھ رہنے والے دیکھتے ہیں تو ان کی تعداد لاکھ کے قریب ہو جاتی ہے۔ قطع نظر اس کے صرف براہین احمدیہ کے بعض الہامات کو دیکھا جاوے چوبیس برس ہوئے کہ یہ کتاب تصنیف ہوئی جو اس وقت مکہ، مد بینہ، مصر، بخارا، لنڈن اور ایسا ہی ہندوستان کے ہر ایک حصہ میں پہنچ گئی۔ کئی ایک پادریوں اور دیگر مخالفین اسلام کے گھروں میں پہنچ گئی ۔ اب اس کتاب میں مثلاً لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ارشاد ہے کہ اس وقت تو اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں لیکن ایک وقت آوے گا کہ لوگ تیرے پاس دور دور سے آویں گے۔ ( يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ) تو لوگوں میں پہچانا جاوے گا اور تیری شہرت کی جاوے گی ۔ تیری امداد اور تائید کو دور دور سے لوگ آئیں گے۔ پھر کہا کہ لوگ کثرت سے آویں گے اور تو ان سے نرمی اور اخلاق سے پیش آنا۔ ان کی ملاقات سے مت گھبرانا ۔ ( وَلَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمْ مِّنَ النَّاسِ ) پھر آخر کار فرما یا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَانْتَهَى اَمْرُ الزَّمَانِ إِلَيْنَا - أَلَيْسَ هُذَا بالحق ۔ یعنی جب خدا کی فتح اور نصرت آوے گی اور زمانہ کا امر ہماری طرف منتہی ہوگا تو اس وقت کہا جاوے گا کہ کیا یہ سلسلہ حق نہیں؟ اب لاہور اور امرتسر کے لوگ اور ایسا ہی پنجاب کے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ براہین کی اشاعت کے وقت مجھے کوئی جانتا نہیں تھا۔ حتی کہ قادیان میں بہت کم لوگ ہوں گے جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔ پھر یہ اُمور کس طرح پورے ہو رہے ہیں ۔ اگر چہ یہ پیشگوئیاں بدرجہ اتم ابھی پوری نہیں ہوئیں لیکن جس قدر ان الہامات کا ظہور ہو رہا ہے وہ طالب حق