ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 201

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۱ کے لیے کافی ہے۔ اب کیا یہ میری بناوٹ ہے کہ ایک انسان آج سے چوبیس سال پہلے آجکل کے واقعات کا نقشہ کھینچ سکتا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ ہزار ہا مخلوق کا مرجع ہوگا خصوصاً جبکہ ایک مدت تک ان امور کا ظہور نہ ہوا ۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ امور کسی فراست کا نتیجہ نہیں ہو سکتے ۔ ان امور کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ جس قدر نشانات خدا تعالیٰ نے میری تائید میں ظاہر کئے وہ اپنی تعداد اور شوکت میں ایسے ہیں کہ بحر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل انبیاء و مرسلین سے ایسے ثابت نہیں ہوئے لیکن اس میں میرا کیا فخر ہے یہ سب کچھ تو اس پاک نبی کی فضیلت ہے جس کی امت میں ہونے کا مجھے فخر حاصل ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ آج کل کے پیر زادوں اور سجادہ نشینوں کو آزمالوہ کسی پادری یا کسی مذہب کے سرگروہ کو میرے مقابل میں لاؤ۔ خدا تعالیٰ نشان نمائی میں بالضرور اس کو میرے مقابل شرمندہ اور ذلیل کرے گا۔ یہاں تو نشانوں کا دریا بہہ رہا ہے۔ میرے دوست اس الہام سے خوب واقف ہیں جو دس بارہ سال ہوئے خدا تعالیٰ نے فرمایا إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهَانَتَكَ وَإِنِّي مُعِينٌ مَنْ أَرَادَ اعانتك اس ایک الہام کو کس قدر مواقع اور محل پر میرے دوستوں نے پورے ہوتے دیکھا۔ کس طرح لوگوں نے میری اہانت اور تذلیل کے لیے بیڑے اٹھائے اور کس طرح وہ خود ہی ذلیل اور خوار ہو گئے ۔ اس کی ایک مثال نہیں بلکہ کئی ایک مثالیں ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان نشانات کو دیکھ کر بھی لوگ ابھی گمراہ ہیں۔ سو بات یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ سے دو گروہ چلے آئے ہیں ایک سعید دوسر اشقی ۔ ابو جہل نے ہزاروں نشان دیکھے لیکن وہ کافر ہی رہا۔ سو اس صورت میں مومن کے لیے ضرور ہے کہ وہ دعا میں لگ جاوے۔ آپ نے جو آج مجھ سے بیعت کی ہے۔ یہ تخم ریزی نے سے کی ہے۔ یہ تخم صرف بیعت پر قناعت نہ کریں کی طرح ہے۔ چاہیے کہ آپ اکثر مجھ سے ملاقات - کریں اور اس تعلق کو مضبوط کریں جو آج قائم ہوا ہے۔ جس شاخ کا تعلق درخت سے نہیں رہتا وہ آخر کار خشک ہو کر گر جاتی ہے۔ جو شخص زندہ ایمان رکھتا ہے وہ دنیا کی پروانہیں رکھتا۔ دنیا ہر طرح