ملفوظات (جلد 6) — Page 199
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۹ جلد ششم اور سال بھی مقرر کر دیا ہے۔ تمام عیسائیوں میں ایک قسم کی گھبراہٹ پیدا ہوئی ہے کیونکہ کتب سابقہ کے مطابق مسیح کی آمد کا وقت آچکا ہے اور مسیح ابھی تک آیا نہیں ۔ اس لیے بعض علماء اخیر مجبور ہو کر اس طرف گئے ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی سے مراد کلیسیا کی ترقی ہے جو ہو چکی ہے۔ لے اسی طرح ہماری کتب کے مطابق بھی بعثت مسیح کا یہی زمانہ ہے۔ حج الکرامہ والے نے لکھا ہے کہ گل اہل کشوف اسی طرف گئے ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی کے لیے چودھویں صدی مقرر ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی اسی زمانہ کے لیے اسے چراغ الدین کہا ہے۔ غرضیکہ ہر ایک بزرگ نے جو زمانہ مقرر کیا ہے وہ چودھویں صدی سے آگے نہیں گیا اگر چہ ان میں کچھ اختلاف ہے۔ چودھویں صدی میں لطیف اشارہ اس طرف تھا کہ دین اسلام چودھویں رات کے چاند کی طرح اس زمانہ میں چمک اٹھے گا۔ جس طرح چاند کا کمال چودھویں رات کو ہوتا ہے اسی طرح اسلام کا کمال گل دنیا میں چودھویں صدی میں ظاہر ہوگا۔ تیرھویں صدی کی تاریکی ان لوگوں میں ضرب المثل ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس صدی کے علماء سے بھیڑیوں نے بھی نجات مانگی تھی ۔ یہ لوگ چودھویں صدی کے منتظر تھے لیکن جب صدی آگئی تو اپنی بدبختی کے باعث انکار کر گئے ۔ اسی طرح قرآن میں ذکر ہے وَ لَمَّا جَاءَهُمْ كِتَبٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ ( البقرة : ٩٠) اہلِ کتاب منتظر تھے کہ پیغمبر کے آنے پر وہ اس کے ساتھ مل کر کفار سے جنگ کریں گے لیکن جب پیغمبر آیا تو انکار پر آمادہ ہو گئے ۔ عقل کے نزدیک بھی زمانہ مسیح کا یہی معلوم ہوتا ہے۔ اسلام اس قدر کمزور ہو گیا ہے کہ ایک وقت ایک شخص کے مرتد ہو جانے پر اس میں شور پڑ جاتا تھا لیکن اب لاکھوں مرتد ہو گئے ۔ رات دن مخالفت اسلام میں کتب تصنیف ہو رہی ہیں۔ اسلام کی بیخ کنی کے واسطے طرح طرح کی تجاویز ہورہی ہیں۔ عقل پسند نہیں کرتی کہ جس خدا نے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ( الحجر : ١٠) کا وعدہ دیا ہے وہ اس وقت اسلام کی حفاظت نہ کرے اور خاموش رہے۔ یہ زمانہ کس قسم کی مصیبت کا از ریویو) البدر جلد ۳ نمبر ۳۰ مورخه ۸ را گست ۱۹۰۴ و صفحه ۳، ۴