ملفوظات (جلد 6) — Page 198
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۸ احکم الحاکمین غیور خدا کب اس عدول حکمی کو پلا سز ا چھوڑے گا۔ نئی سواری کا نشان ایک اور نشان اس زمانہ کا وہ نی سوار تھی جس نے اونٹوں کو بیکار کر دینا تھا۔ قرآن نے وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَت (التکویر : ۵) ( جب اونٹنیاں بیکار ہو جاویں گی ) کہہ کر اس زمانہ کا پتا بتلایا۔ حدیث نے مسیح کے نشان میں یوں کہا ليُتركن الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا - پھر یہ نشان کیا پورا نہ ہوا ؟ حتی کہ اس سرزمین میں بھی جہاں آج تک انٹنی کی سواری تھی اور بغیر اونٹنیوں کے گزارہ نہ تھا وہاں بھی اس سواری کا انتظام ہو گیا ہے اور چند سالوں میں اونٹوں کی سواری کا نام و نشان نہیں ملے گا۔ اونٹیاں بیکار ہو گئیں ۔ مقرر کردہ نشان پورے ہو گئے لیکن جس کا یہ نشان تھا وہ پہچانا نہ گیا۔ کیا یہ امور بھی میرے اختیار میں تھے کہ ایک طرف تو میں دعویٰ کروں اور دوسری طرف یہ نشان پورے ہوتے جاویں۔ کیا آسمانی نظام پر بھی میرا دخل ہے جو کسوف اور خسوف موعود کو پیدا کر لیتا یا میرے ہاتھ کوئی ایسے مواد ہیں جن سے زمین پر موعود طاعون پیدا ہو گئی یا حج کا روکنا جو یہ بھی مسیح کا نشان تھا کیا یہ بھی میرے اشارہ سے ہوا؟ اسی طرح بیسیوں نشان زمانہ مسیح کے ساتھ وابستہ تھے وہ سب پورے ہو گئے ۔ خدا تعالیٰ نے کون سی حجت کو ان پر پورا نہیں کیا لیکن ان کا انکار ابھی اسی طرح ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ زمانہ میں دہریت پھیلی ہوئی ہے جو خفیہ خفیہ سب دلوں پر اثر کر رہی ہے۔ خشیت الہی دن بدن مفقود ہورہی ہے۔ کان رکھتے ہیں پر سن نہیں سکتے ۔ آنکھیں رکھتے ہیں پر نہیں دیکھتے ۔ دل رکھتے ہیں پر نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ انکار ہے۔ والا معاملہ تو بہت ہی صاف تھا۔ میری کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس قدر اتمام حجت کی گئی ہے۔ اب ان کے پاس کوئی جواب نہیں ۔ خدا نے قوی دلائل سے ان کا رگ وریشہ کاٹ دیا ہے ۔ لیکن یہ نہیں دیکھتے۔ شناخت مامور کے تین طریق ایک مامور کی شناخت کے تین طریق ہیں۔ نقل بقل ، تائیدات سماوی ۔اب دیکھنا چاہیے کہ یہ تینوں امور اس سلسلہ کے مؤید ہیں ۔ دانیال اور دیگر انبیاء نے تو اس کے آنے کا زمانہ مقرر کر دیا ہے۔ حتی کہ صدی