ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 197

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۷ جلد آنے والا مسیح اس امت میں سے ہوگا ۔ اب ایک طرف قرآن وحدیث بنی اسرائیلی مسیح کی موت اور اس کے دوبارہ نہ آنے کو بیان کرتے ہیں ۔ دوسری طرف یہی قرآن وحدیث آنے والے مسیح کو اسی اُمت میں سے ٹھہراتے ہیں تو پھر اب انتظار کس بات کا ہے۔ نشانات اب علامات کو بھی دیکھ لیا جاوے۔ صدی کے سر پر مجدد کا آنا سب نے تسلیم کیا ہے اور یہ بھی مانا ہے کہ مسیح بطور مجددصدی کے سر پر آوے گا۔صدی میں سے بائیس سال گزر گئے اور اس وقت تک مجدد نظر نہ آیا ۔ آخر اس صدی کے سر پر جس مجدد نے آنا تھا وہ کہاں ہے؟ کسوف و خسوف کانشان مهدی کا نشان کسوف و خسوف تھا جو رمضان میں ہونا تھا۔ اس کسوف و خسوف پر بھی آٹھ سال گزر گئے ۔ مہدی نہ آیا ۔ اگر یہ کہا جاوے کہ نشان تو ہو گیا لیکن صاحب نشان بعد میں آوے گا تو یہ عقیدہ بڑا فاسد ہے اور قسم قسم کے فسادات کی بنا ہے۔ اگر ایک زمانہ کے بعد اکٹھے ہیں انسان مہدویت کے مدعی ہو جاویں تو پھر ان میں کون فیصلہ کرے گا ؟ ضرور ہے صاحب نشان نشان کے ساتھ ہو۔ یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر صدی کے سرے کو اور کسوف و خسوف کو یاد کیا کرتے اور روتے تھے لیکن جب وہ وقت آیا تو یہی لوگ دشمن بن گئے ۔ حدیث کے مطابق تمام نشان واقع ہو گئے لیکن یہ لوگ اپنی ضد سے باز نہیں آتے۔ کسوف و خسوف کا عظیم الشان نشان ظاہر ہو گیا لیکن خدا کے اس نشان کی قدر نہ کی گئی ۔ - اسی طرح کل انبیاء کی کتب سابقہ اور قرآن وحدیث میں ایک اور بلا کی طاعون کا نشان طرف اشارہ تھا جو کسوف و خسوف کے آسمانی نشان کے بعد آنے والی تھی اور وہ طاعون ہے جو وہ بھی مسیح کے زمانہ سے وابستہ تھی۔ یہ ایک خطرناک مصیبت ہے جس کی طرف ہر ایک اولو العزم نبی نے بالتصریح یا بالا جمال اشارہ کیا ہے۔ طاعون آگئی ۔ لاکھوں انسان تباہ ہو گئے اور نہ معلوم کب تک اس کی تباہی چلتی رہے گی لیکن جس موعود کے زمانہ کی شناخت کا یہ نشان ہے اسے اب تک ان لوگوں نے نہ پہچانا ۔ اسی طرح زمین و آسمان نے شہادت دی لیکن ان شہادتوں کو رڈی سمجھا گیا۔ خدا غیور ہے اور وہ اپنی غیرت دکھلائے گا۔ ایک مجازی حاکم عدول حکمی پسند نہیں کرتا تو وہ