ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 196

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۶ جلد دینا الوہیت مسیح بھی درست ہے۔ پھر مسیح کا یہ کہہ دینا کہ مجھے تو ان کے بگڑنے کا علم نہیں جیسے کہ اسی آیت سے پایا جاتا ہے۔ کیا یہ جواب ان کا جھوٹا نہیں ہوگا اگر ان کا دوبارہ دنیا میں آنا درست ہے۔ کیونکہ سوال و جواب قیامت کو ہوگا ۔ اور اگر انہوں نے دوبارہ دنیا میں آکر چالیس سال رہنا ہے اور عیسائیوں اور کفار کو قتل کر کے اسلام کو پھیلانا ہے تو بالضرور انہوں نے عیسائیوں کی بگڑی ہوئی حالت کو دیکھ لیا ہے اور اس بگڑی ہوئی حالت کو دیکھ کر وہ دوبارہ اس دنیا سے تشریف لے جاویں گے تو پھر حضرت مسیح کا یہ جواب خدا کے حضور میں دروغ بیانی ہے۔ کیا وہ احکم الحاکمین نہ کہے گا کہ تو تو دوبارہ دنیا میں گیا اور تو نے دیکھ لیا کہ میری امت بگڑ چکی تھی۔ ایک مجازی حاکم کے آگے غلط بیانی ، دروغ حلفی کے جرم کا خطر ناک ارتکاب ہے چہ جائیکہ ایک عالم الغیب حاکم کی جناب میں ایسی دروغ بیانی کی جاوے تو گویا اس آیت نے بڑی صفائی کے ساتھ ایک طرف مسیح کی وفات کو ثابت کر دیا اور دوسری طرف ان کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا بطلان کر دیا۔ اس کے مقابل جب ہم حدیثوں پر غور کرتے ہیں تو وہاں سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ حضرت رسالت مآب نے فرمایا اور یہ متفق علیہ حدیث ہے کہ میں نے حضرت مسیح کو حضرت یحییٰ کے ساتھ دیکھا۔ حضرت یحییٰ کا مر جانا اور ان کا اس جماعت میں داخل ہونا جن کی قبض روح ہو چکی ہے ثابت شدہ امر ہے۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسیح بلا قبض روح و انتقال کرنے کے ایک ایسے شخص کا جلیس ہو جو دنیا سے مر چکا ہے۔ اب ایک طرف قول خدا اور دوسری طرف رؤیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات مسیح اور ان کا دوبارہ دنیا میں واپس نہ آنا قطعی ثابت ہو گیا۔ اب بھی یہ لوگ اگر عقیدہ حیات مسیح سے باز نہ آئیں تو یہی سمجھا جاوے گا کہ سچی ہدایت اور سعادت صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ان کے حال پر تو پھر سعدی کا یہ قول صادق آتا ہے۔ آنکس که بقرآن و خبر زد نہ دہر این است جوابش که جوابش نہ رہی ه آنے والا مسیح امتی ہوگا رہا یہ کہ آنے والا کون ہے اس کا فیصلہ بھی قرآن وحدیث نے کر دیا ہے۔ سورۃ نور نے صاف طور پر بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اس امت میں سے ہوں گے۔ بخاری اور مسلم کا بھی یہی مذہب ہے کہ