ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 195

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۵ جلد جاتی ہے ۔ مومن کے دل میں ایک جذب ہوتا ہے کہ جس قوت جاذبہ کے ذریعہ وہ دوسروں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ میں تمہیں سمجھ سکتا اگر تم میں جذب محبت خدا کی راہ میں کافی ہو تو پھر کیوں لوگ تمہاری طرف نہ کھنچے آئیں اور کیوں نہ تم میں ایک مقناطیسی طاقت نہ ہو جاوے۔ دیکھو! قرآن میں سورۃ یوسف میں آیا ہے وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ ذَا بُرْهَانَ رَبِّهِ (يوسف: ۲۵) یعنی جب زلیخا نے یوسف کا قصد کیا یوسف بھی زلیخا کا قصد کرتا اگر ہم حائل نہ ہوتے ۔ اب ایک طرف تو یوسف جیسا متقی ہے اور اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نبی زلیخا کی طرف مائل ہو ہی چکا تھا اگر ہم نہ روکتے ۔ اس میں سر یہ ہے کہ انسان میں ایک کشش محبت ہوتی ہے۔ زلیخا کی کشش محبت اس قدر غالب آئی تھی کہ اس کشش نے ایک متقی کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا۔ سو جائے شرم ہے کہ ایک عورت میں جذب اور کشش اس قدر ہو کہ اس کا اثر ایک مضبوط دل پر ہو جاوے اور ایک شخص جو مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس میں جذب محبت الہی اس قدر نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آویں ۔ یہ عذر قابل پذیرائی نہیں کہ زبان میں یا وعظ میں اثر نہیں ۔ اصلی نقص قوت جاذبہ میں ہے۔ جب تک وہ کامل نہیں تب تک زبانی خالی باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ماتب وفات مسیح اور ہمارے اور ہمارے مسائل سو وہ بھی بالکل صاف ہیں ۔ مثلاً قرآن شریف کی یہ آیت فلما تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدة : ۱۱۸) اس میں ایک جواب اور ایک سوال ہے۔ خدا تعالیٰ مسیح علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تو نے لوگوں کو ایسی تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا تو وہ جواب میں عرض کریں گے کہ بار خدا یا جب تک میں زندہ رہا اور ان میں رہا میں نے تو ان کو ایسی تعلیم نہیں دی البتہ جب تو نے مجھ کو مار دیا تو پھر تو ہی ان کا نگران حال تھا۔ مجھے کوئی علم نہیں کہ میرے پیچھے انہوں نے کیا کیا ۔ یہ کیسی موٹی بات ہے کہ خود مسیح اپنی وفات کا ا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر عیسائی بگڑے تو میری وفات کے بعد بگڑے۔ جب تک میں ان میں اقرار زندہ رہا تب تک وہ صحیح عقیدے پر قائم تھے ۔ اب اگر عیسائی بگڑ گئے ہیں تو بالضرور مسیح مر چکا ہے اور اگر مسیح آج تک نہیں مرا تو عیسائی بھی نہیں بگڑے اور اگر عیسائی نہیں بگڑے تو بالضرور عقیدہ