ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 194

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۴ اقرار ہی کافی نہیں جب تک عملی رنگ سے اپنے آپ کو رنگین نہ کیا جاوے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت: ۳) یعنی کیا انسانوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم صرف امنا ہی کہہ کر چھٹکارا پالیں گے اور کیا وہ آزمائش میں نہ ڈالے جاویں گے۔ سواصل مطلب یہ ہے کہ یہ آزمائش اسی لیے ہے کہ خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا ایمان لانے والے نے دین کو ابھی دنیا پر مقدم کیا ہے یا نہیں ۔ آج کل اس زمانہ میں جب لوگ خدا کی راہ کو اپنے مصالح کے برخلاف پاتے ہیں یا بعض جگہ حکام سے ان کو کچھ خطرہ ہوتا ہے تو وہ خدا کی راہ سے انکار کر بیٹھتے ہیں ایسے لوگ بے ایمان ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ فی الواقع خدا ہی احکم الحاکمین ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ خدا کی راہ بہت دشوار گزار ہے اور یہ بالکل سچ ہے کہ جب تک انسان خدا کی راہ میں اپنی کھال اپنے ہاتھ سے نہ اتار لے تب تک وہ خدا کی نگاہ میں مقبول نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک بھی ایک بے وفا نو کر کسی قدر و منزلت کے قابل نہیں ۔ جو نو کر صدق اور وفا نہیں دکھلاتا وہ کبھی قبولیت نہیں پاتا۔ اسی طرح جناب ! جناب الہی میں وہ شخص پرلے درجہ کا بے ادب ہے جو چند روزہ دنیوی منافع پر نگاہ رکھ کر خدا کو چھوڑتا ہے۔ بیعت کی حقیقت بیعت سے مرا خدا تعالی کو جان سپرد کرنا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا کے ہاتھ بیچ دی۔ یہ بالکل غلط ہے کہ خدا کی راہ میں چل کر انجام کار کوئی شخص نقصان اٹھاوے۔ صادق کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتا۔ نقصان اسی کا ہے جو کاذب ہے ۔ جو دنیا کے لیے بیعت کو اور عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے اس نے کیا ہے تو ڑ رہا ہے۔ وہ شخص جو محض دنیا کے خوف سے ایسے امور کا مرتکب ہو رہا ہے۔ وہ یاد رکھے کہ بوقت موت کوئی حاکم یا بادشاہ اسے نہ چھڑا سکے گا۔ اس نے احکم الحاکمین کے پاس جانا ہے جو اس سے دریافت کرے گا کہ تو نے میرا پاس کیوں نہیں کیا ؟ اس لیے ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ خدا جو مَلِكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ہے اس پر ایمان لاوے اور سچی توبہ کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ امر بھی یونہی حاصل نہیں ہوتا ہے ۔ خدا ہی یہ امر دل میں بٹھائے تو بیٹھ سکتا ہے۔ سو اس کے لیے دعا بکار ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدق سے قدم اٹھاتا ہے اس کو عظیم الشان طاقت اور خارقِ عادت قوت دی