ملفوظات (جلد 6) — Page 193
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰ امتی ۱۹۰۴ء ( بمقام گورداسپور ) ۱۹۳ حضرت مسیح موعود کی ایک تقریر کا خلاصہ یہ تقریر حضرت اقدس نے بمقام گورداسپور ۲۰ مئی ۱۹۰۴ء کو بعد نماز عصر کی تھی۔ تحریک کا باعث چند احباب حیدر آباد دکن کے تھے جنہوں نے اس دن حضور سے شرف بیعت حاصل کیا تھا۔ نو مبائعین کو نصائح آپ نے جو مجھ سے آج تعلق بیعت کیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ کچھ بطور نصیحت چند الفاظ تمہیں کہوں ۔ یہ یا د رکھنا چاہیے کہ انسان کی زندگی کا کچھ اعتبار نہیں اگر کوئی شخص خدا پر ایمان رکھے اور پھر قرآن کریم پر غور کرے کہ خدا تعالیٰ نے کیا کچھ قرآن کریم میں فرمایا ہے تو وہ شخص دیوانہ وار د نیا کو چھوڑ خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔ یہ بالکل سچ کہا گیا ہے کہ دنیا با روزے: روزے چند عاقبت با خداوند ۔ اب خدا کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو شخص خدا کی طرف آنا چاہتا ہے اور فی الواقع اس کا دل ایسا نہیں کہ اس نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہو تو وہ خدا کے نزدیک قابل سزا ٹھہرتا ہے۔ ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں کہ اس کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے جب تک کافی حصہ اپنا ان کی طلب میں خرچ نہ کر دیں وہ مقاصد حاصل ہونے نا ممکن ہیں۔ مثلاً اگر طبیب ایک دوائی اور اس کی ایک مقدار مقرر کر دے اور ایک بیمار وہ مقدار دوائی کی تو نہیں کھاتا بلکہ تھوڑا حصہ اس دوائی کا استعمال کرتا ہے تو اس کو کیا فائدہ اس سے ہوگا ؟ ایک شخص پیاسا ہے تو ممکن نہیں کہ ایک قطرہ پانی سے اس کی پیاس دور ہو سکے۔ اسی طرح جو شخص بھوکا ہے وہ ایک لقمہ سے سیر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ یا اس کے رسول پر زبانی ایمان لے آنا یا ایک ظاہراً رسم کے طور پر بیعت کر لینا بالکل بے سود ہے۔ جب تک انسان پوری طاقت سے خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ لگ جاوے۔ نفس کی خیر خواہی اسی میں ہے اس میں سے کہ انسان پورے طور پر وہ حصہ لے جو روحانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ صرف یہ خیال کہ میں مسلمان ہوں کافی نہیں ۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نے جو تعلق مجھ سے پیدا کیا ہے (خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالے ) اس کو بڑھانے اور مضبوط کرنے کی فکر میں ہر وقت لگے رہیں لیکن یاد رہے کہ صرف