ملفوظات (جلد 6) — Page 192
ملفوظات حضرت مسیح موعود میں نے عرض کی کہ دعا کرو۔ ۱۹۲ فرمایا کہ اگر کسی نے ایک بار میرے ساتھ عہد دوستی باندھا ہو تو مجھے اس قدر اس کی رعایت ہوتی ہے کہ اگر اس نے شراب پی ہوئی ہو تو بھی میں بلا خوف لَوْمَةَ لائِمٍ اسے اٹھا لاؤں گا۔ یعنی جب تک وہ خود ترک نہ کرے ہم خود نہ چھوڑیں گے۔ پس اگر کوئی اپنے بھائیوں کو ترک کرے گا وہ سخت گنہگار ہوگا۔ مولانا موصوف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ مومن، مومن کبھی نہیں ہوسکتا جب تک کہ کفر اس سے مایوس نہ ہو جاوے۔ فتح مسیح کو ایک بار ہم نے رسالہ بھیجا۔ اس پر اس نے لکیریں کھینچ کر واپس بھیج دیا اور لکھا کہ جس قدر دل آپ نے دکھایا ہے کسی اور نے نہیں دکھایا۔ دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن نے خود اقرار کر لیا کہ ہمارا دل دکھا ۔ پس ایسی مضبوطی ایمان میں پیدا کرو کہ کفر مایوس ہو جاوے کہ میرا قابو نہیں چلتا ۔ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ (الفتح : ۳۰) کے یہ معنے بھی ہیں ۔ طاعون کا ذکر تھا۔ کثرت اموات پر ذکر کرتے کرتے فرمایا۔ قبولیت دعا کی شرط سے دعائیں کرتے رہو۔ بجز اس کے انسان مگر اللہ سے بچ نہیں سکتا ۔ مگر دعاؤں کی قبولیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑتا ہے، تو دعاؤں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔ خدا تعالیٰ کی شناخت کا وقت فرمایا۔ اس وقت دنیا میں خدا تعالیٰ کا وجود ثابت ہو رہا ہے، اگر چہ لوگ برائے نام خدا تعالیٰ کے قائل تھے مگر اصل بات یہ ہے کہ ایک قسم کی دہریت پھیل رہی تھی اور خدا تعالیٰ سے بکلی دور جا پڑے ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں ۔ خدا تعالیٰ کے اوامر و نواہی کو توڑنا اس سے بڑھ کر خباثت کیا ہو گی ۔ یہ تو اس کا مقابلہ ہے۔' الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخہ ۱۰، ۱۷ رجون ۱۹۰۴ء صفحه ۱