ملفوظات (جلد 6) — Page 191
ملفوظات حضرت مسیح موعود بلا تاریخ ۱۹۱ اہل اللہ اور ریا حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے حضرت علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کہ کیا کبھی ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ میں بھی ریا آوے؟ اس پر فرمایا۔ کبھی چڑیا خانہ گئے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں ۔ فرمایا۔دیکھو! وہاں شیر، چیتے اور دوسرے حیوانات ہوتے ہیں۔ کبھی یہ خیال وہاں جا کر دل میں آسکتا ہے کہ ان کے سامنے لمبی لمبی نمازیں پڑھیں؟ کبھی یہ خیال وہاں جا کر ریا کار سے ریا کار کے دل میں بھی نہیں آ سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ حیوانات ہماری جنس سے تو نہیں ہیں تو پھر ریا کہاں رہی ۔ ریا تو ہم جنسوں سے ہوتی ہے تو اہل اللہ کس سے ریا کریں۔ ان کے سامنے دوسرے لوگوں کی وہی مثال ہے جیسے چڑیا خانہ میں جانور بھرے ہوئے ہیں ۔ مولانا موصوف نے فرمایا کہ ایک دن کی مجھے بات یاد ہے اپنے الہامات پر کامل ایمان کے کسی نے ذکر کیا کر ینٹی الہی بخش اور اس کا ترجمان کہ منشی عبد الحق کہتا ہے کہ الہام وہ ہے جو پورا ہو جاوے اور جو نہ ہووے وہ حضرت نے فرمایا کہ شیطانی نی کام ہے۔ مکہ معظمہ میں داخل ہو کر اگر خدا تعالیٰ کی قسم دی جاوے تو میں کہوں گا کہ میرے الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن جس شخص نے خیالی طور پر دعوی کیا ہو وہ ہر گز یہ جرات نہیں کر سکتا۔ کبھی وہ شخص جو کامل یقین رکھتا ہے اور وہ جو مشکوک ہے برابر ہو سکتے ہیں؟ عهد دوستی مولانا موصوف نے کہا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے خاص طور پر مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ ” میرے خلق کی پیروی کر