ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 190

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۰ فوٹو گرافی منشی نظیر حسین صاحب نے سوال کیا کہ میں فون کے ذریعہ تصویر میں اتارا کرتا تھا۔ اور دل میں ڈرتا تھا کہ کہیں یہ خلاف شرع نہ ہو لیکن جناب کی تصویر دیکھ کر یہ وہم جاتا رہا۔ فرمایا۔ إِنَّهَا الْأَعْمَال بِالنِيَّاتِ ۔ ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویر بھیج دیں کیونکہ ان لوگوں کا عام مذاق اس قسم کا ہو گیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔ مولوی لوگ جو میری تصویر پر اعتراض کرتے ہیں وہ خود اپنے پاس روپیہ پیسہ کیوں رکھتے ہیں کیا ان پر تصویریں نہیں ہوتی ہیں؟ اسلام ایک وسیع مذہب ہے۔ اس میں اسلام کا مدار نیات پر رکھتا ہے۔ بدر کی لڑائی میں ایک شخص میدانِ جنگ میں نکلا جو اترا کر چلتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہ چال بہت بری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا (بنی اسراءیل: ۳۸) مگر اس وقت یہ چال خدا تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہے کیونکہ یہ اس کی راہ میں اپنی جان تک نثار کرتا ہے اور اس کی نیت اعلیٰ درجہ کی ہے۔ غرض اگر نیت کا لحاظ نہ رکھا جاوے تو بہت مشکل پڑتی ہے۔ اسی طرح پر ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کا تہ بند نیچے ڈھلکتا ہے وہ دوزخ میں جاویں گے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے کیونکہ ان کا تہ بند بھی ویسا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تو ان میں سے نہیں ہے۔ غرض نیت کو بہت بڑا دخل ہے اور حفظ مراتب ضروری شے ہے۔ منشی نظیر حسین صاحب۔ میں خود تصویر کشی کرتا ہوں ۔ اس کے لیے کیا حکم ہے؟ فرمایا۔ اگر کفر اور بت پرستی کو مد نہیں دیتے تو جائز ہے۔ آجکل نقوش وقیافہ کا علم بہت بڑھا ہوا ہے ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۲۴ رمتی ۱۹۰۴ صفحه ۲، ۳ والبدر جلد ۳ نمبر ۲۰، ۲۱ مورخه ۲۴ رمئی و یکم جون ۱۹۰۴ء صفحه ۱۰،۹