ملفوظات (جلد 6) — Page 189
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۹ جلد پر ہی نہ رہے گا بلکہ بتانے والے کو بھی گالیاں دے گا حالانکہ یہ اس کی اپنی کمزوری اور غلطی ہے جو اس نے پورے طور پر نہیں کھودا ۔ اسی طرح جب انسان دعا کرتا ہے اور تھک جاتا ہے تو اپنی نامرادی کو اپنی سستی اور غفلت پر تو حمل نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے اور آخر بے ایمان ہو جاتا ہے اور آخرد ہر یہ ہو کر مرتا ہے۔ جہاں حضور بیٹھے ہوئے تھے وہاں سامنے ایک آم کا درخت تھا جس کو نیم ملاں خطرہ ایمان کچے پھل لگے ہوئے تھے۔ ان کو دیکھ کر فرمایا۔ دیکھو اس آم کو پھل لگا ہوا ہے مگر یہ کچا پھل ہے اگر کوئی اس کو کھانے بیٹھ جاوے اور اس کو ہی اصل مقصد سمجھ لے تو بجز اس کے کہ اس کے کھانے سے پھنسیاں وغیرہ نکل آویں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح پر نیم ملاں خطرہ ایمان والی مثال سچ ہے۔ نارسیدہ منزل کا کچے پھل کی طرح ہوتا ہے۔ وہ جو کسی کو بات سنائے گا تو اسے گمراہ کرے گا اور اگر خود کرے گا تو آپ گمراہ ہو گا۔ خدا تعالیٰ کی راہ میں جب تک انسان بہت سی مشکلات اور امتحانات میں پورا نہ اترے وہ کامیابی کا سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکتا ۔ اسی لیے فرمایا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت : ۳) کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محض اتنی ہی بات پر راضی ہو جاوے کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ ایسے لوگ جو اتنی بات پر اپنی کامیابی سمجھتے ہیں وہ یادرکھیں انہیں کے لیے دوسری جگہ آیا ہے وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرة: 9) اور ایسا ہی ایک جگہ فرمایا قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا (الحجرات: ۱۵) ا یعنی تم یہ نہ کہو کہ ایماندار ہو گئے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے مقابلہ چھوڑ دیا ہے اور اطاعت اختیار کر لی ہے۔ بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں۔ کامل ایماندار بننے کے لیے مجاہدات کی ضرورت ہے اور مختلف ابتلاؤں اور امتحانوں سے ہو کر نکلنا پڑتا ہے۔ ه گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود و لیک بخونِ جگر شود