ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 188

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۸ جلد ششم مشکلات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی ضروریات کے پورا کرنے کے لیے بعض نادان انسان عجیب عجیب مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے اور صراط مستقیم سے ہٹ کر ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مال بہم پہنچاتا ہے اور پھر اور مشکلات میں پھنستا ہے۔ ایک فقیر ننگ دھڑنگ جس کے پاس ستر پوشی کے سوا اور کوئی کپڑا تک نہ تھا خوش و خرم کھیلتا کودتا جارہا تھا۔ کسی سوار نے اس سے پوچھا کہ سائیں صاحب آپ ایسے خوش کیوں ہیں؟ اس نے کہا کہ جس کی مرادیں حاصل ہو جائیں وہ خوش ہوتا ہے یا نہیں؟ سوار نے کہا کہ تیری ساری مراد یں کس طرح پوری ہوگئی ہیں؟ اس نے کہا کہ جب خواہشیں چھوڑ دیں تو مرادیں پوری ہو گئیں ۔ بات بالکل ٹھیک ہے۔ انسان دو طرح ہی خوش ہو سکتا ہے یا تو حصولِ مراد کے ساتھ یا ترک مراد کے ساتھ اور ان میں سہل طریق ترک مراد کا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ سب کی زندگی تلخ ہے بجز اس کے جو اس دنیا کے علاقوں سے الگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بادشاہوں نے بھی ان تلخیوں اور ناکامیوں سے عاجز آ کر خود کشی کر لی ہے۔ لذات دنیا کی مثال دنیا کی لذت خارش کی طرح ہے۔ ابتداء لذت ۔ ابتداء لذت آتی ہے۔ پھر جب کھجلاتا رہتا ہے تو زخم ہو کر اس میں سے خون نکل آتا ہے یہاں تک کہ اس میں پیپ پڑ جاتی ہے اور وہ ناسور کی طرح بن جاتا ہے اور اس میں درد بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ گھر بہت ہی نا پائیدار اور بے حقیقت ہے۔ مجھے کئی بار خیال آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی مردے کو اختیار دیدے کہ وہ پھر دنیا میں چلا جاوے تو وہ یقیناً تو بہ کر اٹھے کہ میں اس دنیا سے باز آیا۔ خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو تو انسان ان مشکلات دنیا سے نجات پاسکتا ہے کیونکہ وہ دردمندوں کی دعاؤں کو سن لیتا ہے مگر اس کے لیے یہ شرط ہے کہ دعائیں مانگنے سے انسان تھکے نہیں تو کامیاب ہوگا اور اگر تھک جاوے گا تو نری ناکامی نہیں بلکہ ساتھ بے ایمانی بھی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے بدظن ہو کر سلب ایمان کر بیٹھے گا۔ مثلاً ایک شخص کو اگر کہا جاوے کہ تو اس زمین کو کھود خزانہ نکلے گا مگر وہ دو چار پانچ ہاتھ کھودنے کے بعد اسے چھوڑ دے اور دیکھے کہ خزانہ نہیں نکلا تو وہ اس نامرادی اور نا کامی