ملفوظات (جلد 6) — Page 187
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۷ ۱۶ رمئی ۱۹۰۴ء بمقام گورداسپور اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام احاطہ کچہری میں رونق افروز تھے۔ وقتاً فوقتاً جو کچھ آپ نے فرما یا ہدیہ ناظرین ہے ۔ ( ایڈیٹر الحکم ) تلخیوں دنیا کی مشکلات اور تلخیاں دنیاکی تھیں اور اس ناکامیوں پر فرمایا کہ مثنوی میں لکھا ہے۔ ه دشت دنیا جزود و جز دام نیست جز بخلوت گاه حق آرام نیست فرمایا۔ دنیا کی مشکلات اور تلخیاں بہت ہیں۔ یہ ایک دشت پر خار ہے۔ اس میں سے گذرنا ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ گذرنا تو سب کو پڑتا ہے لیکن راحت اور اطمینان کے ساتھ گذر جانا یہ ہر ایک شخص کو میسر نہیں آسکتا۔ یہ صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو اپنی زندگی کو ایک فانی اور لاشے سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے لیے اسے وقف کر دیتے ہیں اور اس سے سچا تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔ ورنہ انسان کے تعلقات ہی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی تلخی اس کو دیکھنی پڑتی ہے۔ بیوی اور بچے ہوں تو کبھی کوئی بچہ مر جاتا ہے تو صدمہ برداشت کرتا ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو تو ایسے ایسے صدمات پر ایک خاص صبر عطا ہوتا ہے جس سے وہ گھبراہٹ اور سوزش پیدا نہیں ہوتی جو ان لوگوں کو ہوتی ہے جن کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کے منشا کو سمجھ کر اس کی رضا کے لیے اپنی زندگی کو وقف کرتے ہیں۔ وہ بے شک آرام پاتے ہیں ورنہ نا کامیاں اور نامرادیاں زندگی تلخ کر دیتی ہیں۔ ایک کتاب میں ایک عجیب بات لکھی ہے کہ ایک شخص سڑک پر روتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ راستہ میں ایک ولی اللہ اس سے ملے ۔ انہوں نے پوچھا کہ تو کیوں روتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا دوست مر گیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ تجھ کو پہلے سوچ لینا چاہیے تھا۔ مرنے والے کے ساتھ دوستی ہی کیوں کی؟ دنیا عجیب مشکلات کا گھر ہے۔ بیوی بچوں کے نہ ہونے سے بھی غم ہوتا ہے اور اگر ہوں تب بھی